تیل کی قیمت اور انتخابات میں ہے گہرا رشتہ، ہمیشہ عوام کو بنایا گیا بے وقوف

مودی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں تیل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 9 بار اضافہ کیا جب کہ 2 بار اس میں کمی کی، اور دونوں ہی مرتبہ موقع تھا اسمبلی انتخابات کا۔ عوام بھی جان چکی ہے کہ یہ محض ’انتخابی چاکلیٹ‘ ہے۔

گزشتہ 10 ستمبر 2018 کی ہی بات ہے جب مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے تعلق سے بیان دیا تھا کہ ’’ڈیزل اور پٹرول کی قیمت کا بڑھنا ہمارے ہاتھ سے باہر ہے۔‘‘ لیکن 4 اکتوبر کو مرکز کی مودی حکومت نے تیل کی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا اعلان کیا جس کے بعد قومی سطح پر پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 2.50روپے کی کمی آئی اور پھر مرکز کی اپیل پر کئی بی جے پی حکمراں ریاستوں نے بھی اپنی طرف سے ریاستی ٹیکس میں تخفیف کرتے ہوئے 2.50 روپے کم کر دیے۔ گویا کہ کئی ریاستوں میں 5 روپے تک ڈیزل و پٹرول کی قیمتیں کم ہو گئیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی وزیر جب یہ بیان دیتے ہیں کہ قیمتوں کا بڑھنا اور گھٹنا ان کے ہاتھ میں نہیں ہے تو پھر 5 روپے کی کمی کس طرح ہوئی۔ جواب ہے ’انتخابات قریب آنے کی وجہ سے‘۔

جی ہاں، کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور الیکشن کمیشن نے 6 اکتوبر کو چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم، راجستھان اور تلنگانہ میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر بھی دیا۔ اس سے صاف ہے کہ منصوبہ بندی کے ساتھ مرکزی حکومت نے عوام کو خوش کرنے کے مقصد سے تیل کی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی اور پھر بی جے پی حکمراں ریاستوں نے بھی مرکز کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے اپنی طرف سے عوام کو ’انتخابی تحفہ‘ دے دیا۔ بات یہ بھی ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں جلد کمی کا اعلان نہیں کیا جاتا تو پھر چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے بغیر الیکشن کمیشن کی اجازت کے کوئی اعلان بھی نہیں کر پاتیں۔

یہ بھی پڑھیں... انتخابات قریب آتے ہی کئی ریاستوں میں پٹرول-ڈیزل کی قیمت 5 روپے کم

وزیر اعظم نریندر مودی نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر کے بھلے ہی عوام کو ’چاکلیٹ‘ تھما دی ہے لیکن عوام جانتی ہے کہ یہ چاکلیٹ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ عوام یہ بھی جانتی ہے کہ یہ سب انتخابی حربہ ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں پچھلے دو مہینے سے لگاتار بڑھ رہی ہیں اور جب مرکزی وزراء سے سوال کیا جاتا تھا تو ان کا بس یہی جواب ہوتا تھا کہ ’’اس پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں‘‘۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ 9 مہینے میں پٹرول کی قیمت میں تقریباً 14 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 16 روپے فی لیٹر بڑھی ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو اگر کسی ریاست میں 5 روپے قیمت کم بھی ہو گئی تو کیا فائدہ ہوا! الٰہ آباد سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ شیاما چرن گپتا ہی حکومت کے اس قدم سے ناخوش نظر آتے ہیں۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’تیل کی قیمت 5 روپے کم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ 15-10 دن بعد پھر سے قیمت وہیں پہنچ جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قیمتوں کے بڑھنے پر کنٹرول کیا جائے۔‘‘

اپوزیشن پارٹیاں تو مرکزی حکومت کے ذریعہ تیل کی قیمتوں میں کمی کو انتخابی ایشو قرار دے ہی رہی ہیں، این ڈی اے میں شامل شیو سینا نے بھی واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہمیشہ انتخابی ایشو رہا ہے اور اس بار بھی اس کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ دراصل مرکزی حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں صرف دو بار تیل پر ایکسائز ڈیوٹی گھٹائی ہے۔ ایک بار 2017 کے اکتوبر میں راحت دی تھی جب دسمبر میں کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے تھے، اور اب بھی اکتوبر میں ہی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا اعلان ہوا جب کئی اہم ریاستیں اسمبلی انتخابات کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ دسمبر 2017 میں جب گجرات میں اسمبلی انتخاب ہونے والے تھے اس وقت 4 فیصد ویٹ گھٹا کر عوام کو راحت دی گئی تھی اور رواں سال کرناٹک میں انتخابی تشہیر کے دوران 20 دن تک تیل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ بعد ازاں 12 مئی کو کرناٹک میں جیسے ہی ووٹنگ مکمل ہوئی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا اور 17 دنوں میں پٹرول کی قیمت 4 روپے بڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں... سی این جی، گھریلو گیس سلینڈر، پٹرول-ڈیزل اب عام آدمی کے بجٹ سے باہر

دراصل مرکزی حکومت تیل کے ذریعہ اپنے خزانے کو خوب مالا مال کرنا چاہتی ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ 15-2014 میں جہاں ایکسائز ڈیوٹی سے سرکاری خزانے کو 99069 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا تھا وہیں 18-2017 میں 228907 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔ زیادہ سے زیادہ عوام کی جیب کاٹنے اور خزانہ کو بھرنے کی یہی کوشش تھی کہ مودی حکومت نے نومبر 2014 سے جنوری 2016 کے درمیان 9 بار تیل کی ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جو مجموعی طور پر 12 روپے تھا، اور صرف دو بار یعنی 2017 (2 روپے) اور 2018 (1.50 روپے) میں ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی۔

ان اعداد و شمار سے صاف ہے کہ مرکز کی مودی حکومت تیل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کر اپنا کوئی نقصان نہیں کرنا چاہتی بلکہ وقتی طور پر عوام کی ناراضگی کو کم کرنے اور انتخابی تشہیر کے دوران عوام کا سامنا کرنے کے مقصد سے ’نہ چاہتے ہوئے‘ بھی یہ قدم اٹھایا ہے۔ گویا کہ عوام کو جو راحت ملی ہے وہ چند روزہ ہے۔ کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے اگر دسمبر کے اوائل میں ایک بار پھر پٹرول کی قیمت 90 کے پار ہوتے ہوئے سال کے آخر تک سنچری بنا لے۔ ویسے بھی سابق پٹرولیم سکریٹری آر ایس شرما کا کہنا ہے کہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ نومبر کے آخر تک ایک بار پھر پٹرول کی قیمت 90 کے پار پہنچ جائے۔

سب سے زیادہ مقبول