مبارک ہو دیش واسیو! پردھان سیوک نے ہمیں ایک نمبر پر پہنچا دیا... اعظم شہاب

مودی جی کی قیادت میں ہمارا ملک نہایت تیزی سے دنیا میں اول مقام کے لئے گامزن ہے۔ نہ صرف کورونا بلکہ بیروزگاری، جی ڈی پی، سرحدی تنازعہ گویا کہ ہرمحاذ پر مودی جی نے ملک کو اول مقام پر پہنچادیا ہے۔

نریندر مودی
نریندر مودی
user

اعظم شہاب

بالآخر ہم خدا خدا کرکے برازیل کو پچھاڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ آج ہمارے دیش نے کورونا وبا کی فہرست میں دنیا میں دوسرا مقام حاصل کرلیا، جس کی امید جون مہینے سے کی جارہی تھی۔ اس حصولیابی کے لیے ہم مودی سرکارکو ڈھیرساری مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ یہ سب مودی جی کے کرشماتی قیادت کے سبب ہی ممکن ہوسکا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ مودی جی نے راہل گاندھی کی باتیں نہیں مانیں، ورنہ آج ہم اس اعزاز سے محروم رہ جاتے۔ بصیرت کی حامل عملی قیادت کی ایک وصف یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ جو ٹھان لیتی ہے وہ کرگزرتی ہے۔ مودی جی کی قیادت نے ہندوستان کو’وشو گرو‘ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے، یہ حصولیابی اس سمت میں کئی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

کورونا کے بارے میں وزارت صحت نے آج یعنی کہ اتوار کی صبح تک جواعداد وشمار جاری کیے ہیں، اس کے مطابق ہندوستان میں کوورنا متاثرین کی تعداد 41لاکھ13ہزار 811 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ورلڈ میٹرس کے مطابق یہ تعداد 4114773 ہے۔ برازیل میں یہ تعداد 4123000 ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ہندوستان برازیل سے ابھی بھی 9 ہزار پیچھے ہے، لیکن اگر اس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے تازہ ترین اعداد شامل کرلیے جائیں تو دوسرا مقام ہندوستان کے ہی حصے میں آتا ہے۔ یوں بھی ہم گزشتہ کئی ہفتوں سے یومیہ متاثرین کے معاملے میں دنیا میں اول ترین مقام پر ہی تھے۔ ہم نے دنیا کو یومیہ 60 ہزار سے زائد متاثرین دیئے، جسے آج تک امریکہ بھی نہیں چھوسکا۔ اگر ترقی کی رفتار یوں ہی جاری رہی تو مجھے یقین ہے کہ ہم بہت جلد امریکہ کوبھی پچھاڑ کر نمبر ایک پر پہنچ جائیں گے۔ ویسے بھی 20-22 لاکھ کی تعداد ہماری تیز رفتار ترقی کے مقابلے میں حیثیت رکھتی ہے۔

مودی جی کی قیادت میں ہمارا ملک نہایت تیزی سے دنیا میں اول مقام کے حصول کی جانب گامزن ہے۔ بیروزگاری کے معاملے میں ہم نے اول مقام کورونا کی وبا سے قبل ہی حاصل کرلیا تھا، مگر ہمارا قومی میڈیا جسے میں دیش کا دشمن سمجھتا ہوں، اس نے مودی جی کی اس ’اپلبدھی‘ پر پردہ ڈال کر دیش واسیوں سے چھپانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود کسی نہ کسی طریقے سے کچھ اعداد وشمار سامنے آگئے، جس نے یہ بتادیا کہ ملک بیروزگاری کے معاملے میں اپنی تاریخ کے بلند ترین مقام پر فائز ہوچکا ہے۔ کانگریس ودیگر اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے مودی سرکار کو اس پر ’مبارکباد‘ دی ہی جارہی تھی کہ کورونا نے آکر رنگ میں بھنگ کردیا۔ وہ تو بھلا ہو سی ایم آئی ای کا جو مکمل طور پر حکومتی ادارہ ہونے کے باوجود اس حقیقت سے ملک کو روشناش کرایا کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 27 فیصد سے زائد ہے۔ جبکہ اگر ہم پوری دنیا میں بیروزگاری کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو ہم سے آگے صرف 8 ممالک ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا ہم پلہ نہیں ہے۔ ان 8 ممالک میں بوسنیا وہرزگوینا، نمیبیا، انگولا، جنوبی افریقہ، کوسوو، موزامبک، فلسطین اور لیسوتھو ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے بہت سے دیش واسی ان 8 ممالک میں سے کئی کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ سہرا ہمارے سر ہمارے پردھان سیوک نے باندھ دیا کہ آج بیروزگاری کے معاملے میں ہم اپنے ہم پلہ تمام ممالک میں بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔ ہے نا قابل فخر کارنامہ؟

اب ذرا ملک کی جی ڈی پی پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ ابھی ہفتہ بھر پہلے سی ایس او (Central Statistics Office) نے جی ڈی پی کے جو اعداد وشمار جاری کیے ہیں، اس کے حساب سے منموہن سنگھ کے زمانے میں 8 سے 10 فیصد رہنے والی جی ڈی پی اب مائنس یعنی کہ نفی 24 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ملک کی ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں پہلا واقعہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کورونا کی وبا اور ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ یہ گراوٹ اسی وقت سے شروع ہوگئی تھی جب پردھان سیوک نے اس ملک کی زمام کار سنبھالی تھی۔ ملک کی نظروں سے اس گراوٹ کو اجھل کرنے کے لیے پہلے تو پردھان سیوک کے ماہرین معاشیات نے جی ڈی پی کی پیمائش کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے اس میں 2 فیصد کا اضافہ کردیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مودی حکومت کی گرتی جی ڈی پی کو بھی دو فیصد کے اضافے کا سہارا مل گیا اور اس کے ذریعے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ ہماری جی ڈی پی منموہن سنگھ حکومت کے دور کی جی ڈی پی کے برابر ہے۔ جبکہ درحقیقت 2014 میں ہی دو فیصد جی ڈی پی گرچکی تھی۔

لیکن یہ گراوٹ یہیں نہیں رکی بلکہ اس کا تسلسل قائم رہا۔ اب جبکہ پوری دنیا کورونا کی وبا سے جوجھ رہی ہے، ملک کی جی ڈی پی 24 فیصد تک گرچکی ہے۔ اس ’اپلبدھی‘ کا سہرا راست طور پر مودی حکومت کے ہی سر جاتا ہے، لیکن مودی جی کی اس حصولیابی سے نالاں کچھ لوگ اس کا موازنہ دنیا بھر کے ممالک سے کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم سے آگے بھی کچھ ممالک ہیں۔ اس معاملے میں مودی میڈیا معاف کیجیے گا گودی میڈیا کے علاوہ کچھ دیش بھکت فلمی شخصیات بھی شامل ہیں۔ جبکہ درحقیقت اپنی بے سرپیر کی تاویلات سے یہ لوگ مودی جی کے قد کو چیلنج کررہے ہیں۔ ان ’مودی رتنوں‘ کی سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آرہی ہے کہ امریکہ وبرطانیہ جیسے ممالک میں جی ڈی پی کے پیمائش کا جو طریقہ کار رائج ہے، اس کے مطابق اگر ہندوستان کے جی ڈی پی کی پیمائش کی جائے تو یہ 24 کا عدد بڑھ کر 65 تک پہنچ جائے گا۔ یعنی کہ اگر امریکہ وبرطانیہ کی موجودہ جی ڈی پی کے پیمائش کے طریقہ کار سے ہندوستان کی جی ڈی پی ناپی جائے تو ہم دنیا میں اول ترین مقام پر ہیں۔ ہم سے آگے پھر کوئی نہیں ہے۔

اب ذرا ہندوستان کے سرحدی تنازعے کے بارے میں بھی پردھان سیوک کی حصولیابی کی ایک جھلک دیکھ لیں۔ چین آج ہندوستان کے ایک ہزار مربع کلومیٹر کے حصے پر قابض ہے اور ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے صفحات پر مسلسل بمباری کے باوجود وہ ابھی تک قائم ہے۔ ماسکو میں شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن کے اجلاس میں وزارت دفاع راج ناتھ سنگھ کی اپنے چینی ہم منصف سے دو سے ڈھائی گھنٹے کی ملاقات نے بھی اس پوزیشن میں کوئی فرق نہیں لاسکی۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ ہماری فوج کے کمانڈراِن چیف تک یہ بات کہنے لگے ہیں کہ لداخ میں صورت حال کشیدہ ہیں۔ لیکن ہمارے مودی جی کی سیاسی بصیرت ابھی تک اس کا حل تلاش نہیں کرسکی ہے کہ اس معاملے کو کیسے نمٹا جائے۔ مودی جی چینی صدر شی زی پنگ سے اپنا روحانی رشتے کا اعلان کرچکے ہیں، لیکن مہاشے جی کو اتنی بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ سرحد پرجو کشیدگی ہے کہ وہ وزارت دفاع کے یا فوجی جرنلوں کی ملاقات سے نہیں سلجھنے والی ہے، اس کے لیے انہیں اپنے روحانی دوست سے بات کرنی چاہیے، لیکن معلوم نہیں کیوں وہ اس معاملے میں خاموش ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سرحد پر کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور پردھان سیوک جی مور کو دانہ چگانے میں مصروف ہیں۔ یہی صورت حال خارجہ پالیسی کے بارے میں بھی ہے کہ پردھان سیوک جی نے اپنے تمام پڑوسیوں کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ بلاشبہ یہ حصولیابی ہمارے پردھان سیوک کے بیش بہا کارناموں میں سے ایک ہے۔ جس کے لیے ہم دیش واسیوں کو پردھان سیوک کو مبارکباد دینی چاہیے۔

next