کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں... اعظم شہاب

اب دیش بھکتی کے ڈوز کا اثر کم ہونے لگا ہے۔یوں بھی 2024 بہت دور ہے۔ پارلیمانی الیکشن آتے آتے اس کے اثرات مزید کتنے کم ہوجائیں گے، یہ JEE-NEET کے طلبا وبے روزگار ہوئے نوجوانوں سے کوئی پوچھنے کی زحمت کرے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

ہاں تو دوستو، مودی جی نے آج پھر وہی اپنا پرانا کام یعنی ’من کی بات‘ نہایت ایمانداری و پابندی سے کی۔کاش کہ موصوف کے پاس اس کی مقبولیت بھی ناپنے کا کوئی آلہ ہوتا تو معلوم ہوتا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور آئی ٹی سیل کے علاوہ دیگر حلقوں میں ان کے اس من کی بات کی کیا قدروقیمت ہے۔ معلوم نہیں مہاشے جی کے مشیراور ان کی تقریر یں لکھنے والے انہیں یہ مشورہ کیوں نہیں دے پارہے ہیں کہ صاحب جی اب یہ ون وے ٹرافک بند کیجئے، ملک کی عوام آپ کے من کی سنتے سنتے اب اپنے من کی سننے لگی ہے نیز اب وہ اس کھلونے سے اوب ہوچکی ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر کسی نے ان’تتھاستوجی‘ کو یہ مشورہ دینے کی غلطی بھی کی تو کم ازکم وہ اس کی ملازمت کا تو آخری دن ضرور ہوگا۔ اس لیے مشیر بھی خاموش ہیں، من کی بات لکھنے والے بھی، ریکارڈ کرنے والے بھی اور اسے نشر کرنے والے بھی۔ سب خاموش ہیں کہ جب صاحب جی ہی اس وقت کی بربادی کو اپنی اپلدھی سمجھنے پر بضد ہیں توپھر بھلا ہمارا کیا بگڑتا ہے۔ وہ جو سمجھنا چاہتے ہیں، ہم سمجھاتے رہیں گے۔

لیکن ان مشیروں کی خودغرضی اور خوف کی وجہ سے ملک کو آج جن ناقابل بیان مصائب کا سامنا کرنا پڑرہاہے، اس کا اندازہ نہ ہی من کی بات لکھنے والے کو ہے اور نہ ہی من کی بات کرنے والے کو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پردھان سیوک جی کو نہ تو ملک کی تباہ ہوچکی معیشت نظر آتی ہے، نہ ہی کورونا کی وبا دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اروناچل پردیش سے لے کر لداخ تک چین کی ہماری سرحدوں پر دراندازی نظر آتی ہے۔ انہیں یاد ہے تو بہار وبنگال جہاں بہت جلد چناؤ ہونے والے ہیں اور ان ریاستوں میں کامیابی کے لیے وہ لداخ میں شہید ہونے والے فوجیوں سے لے کر خودکشی کرنے والے سوشانت سنگھ کو کیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن مہاشے جی کو یاد رکھنا چاہئے کہ اب دیش بھکتی کے ڈوز کا اثر کم ہونے لگا ہے اور یوں بھی 2024بہت دور ہے، پارلیمانی الیکشن آتے آتے اس کے اثرات مزید کتنے کم ہوجائیں گے؟ یہ جی ای ای ونیٹ کے طلبہ وبیروزگار ہوئے نوجوانوں سے کوئی پوچھنے کی ذرا زحمت کر لے۔

خیر! مہاشے جی نے اس بار اپنے پروچن میں دیگر باتوں کے ساتھ کھلونوں کی بات بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلونے بنانے یا کھلونوں کا کاروبار کرنے سے ملک ’آتم نربھر‘ ہوگا۔ معلوم نہیں یہ زریں خیال موصوف کے ذہن میں کہاں سے آگیا کہ کھلونوں سے خودکفیلی آسکتی ہے۔کھلونے بنانے کے لیے کھلونوں کی مانگ ہونی ضروری ہے۔ اور مانگ کے لیے دیگر ملکوں سے تعلقات بہتر ہونا ضروری ہے۔ اور ماشاء اللہ ہم دونوں ہی محاذ پر ایک دم ’آتم نربھر‘ ہیں۔ یعنی کہ ہمیں نہ مانگ کی پرواہ ہے اور نہ ہی دیگرملکوں سے تعلقات کی۔دور دراز کے ممالک تو چھوڑیں، ہمیں اپنے پڑوسیوں سے تعلقات کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایسی صورت میں بھلا پردھان سیوک جی کیوں کھلونے بنوانے پر تلے ہوئے ہیں؟ سمجھ سے بالاتر ہیں۔ جب جاپان کھلونے بناتا تھا تو یوروپ میں اسے کھلونے بنانے والا ملک کہہ کر اس کی تضحیک کی جاتی تھی۔آج چین کو بھی کھلونوں کے حوالے سے غیرمعیاری اشیاء بنانے والا ملک کہا جاتا ہے۔ یعنی کھلونے بنانے سے ان ممالک میں آتم نربھرتا کبھی نہیں آئی۔ البتہ جب انہوں نے کھلونوں سے آگے بڑھ کر دیگر ضروریات کی اشیاء بنانی شروع کیں تو وہ ترقی یافتہ ملک کہلائے۔ آج جبکہ دنیا 5G اور 6G کی تیاری کررہی ہے، موصوف کھلونے بنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ یوں بھی کھلونے دے کر بہلانے کی روایت بہت پرانی ہے۔

بسااوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پردھان سیوک جی ملک کی عوام کو چڑا رہے ہیں کہ تم لوگ بھلے ہی بیروزگاری کے سمندر میں غرق ہوجاؤ، ملک کی سالمیت وتحفظ بھلے ہی خطرناک حدتک متاثر ہوجائے، کوروناکا اژدہا بھلے ہی ملک کی عوام کو نگلتا چلاجائے، ہم تو من کی بات کریں گے اور من کی بھی بات وہ بات جو میرے من میں ہے۔ ہم عوام کے من کی نہ تو بات کریں گے اور نہ ان کے من کی بات سنیں گے۔ اس یک طرفہ ٹرافک سے ظاہر ہے کہ بہاؤ ایک ہی جانب ہوگا۔لیکن پردھان سیوک جی! اب ذرا تھوڑا ہوش میں آئیے، ریاستیں اب مرکزکے خلاف بگل بجارہی ہیں۔ عوام اب کورونا کی پرواہ کے بغیر سڑکوں پر اترنے کو بے تاب ہے۔ گزشتہ ۶ سالوں ہندومسلم،دیش بھکتی اور دیش دروہ کی جو افیم تقسیم کی جاتی رہی ہے، ا ب دھیر ے دھیرے وہ اپنا اثر کھونے لگی ہے۔ ملک کی عوام اب آپ کے پروچن کی نہیں وچن نبھانے کی منتظر ہے۔ اگر آپ یہ وچن نہیں نبھاسکتے ہیں اور یقینا نہیں نبھاسکتے تو پھر یہی کھلونوں سے بہلانا ہی ٹھیک رہے گا۔

(پسِ نوشت: راقم میں پردھان سیوک جی کے من کی بات سننے کی ذرا بھی تاب نہیں ہے،اس لیے اگرمذکورہ بالا تحریر میں ان کے پروچن کا کوئی ایسا پہلو اوجھل رہ گیا ہو جس کا تذکرہ پردھان سیوک نے کیا ہوتو اس کی تمام تر ذمہ داری ان بھکتوں پر عائد ہوگی جو سوشل میڈیا پر پوری بات شیئرکرنے کے بجائے صرف اپنے مطلب کی باتیں شیئر کرتے ہیں۔)

Published: 30 Aug 2020, 8:56 PM
next