دہلی پولیس کی کرونولوجی... اعظم شہاب

دہلی فسادات کے دوران پولیس سے کی جانے والی جواب طلبی وامن وامان کی برقراری کی کوششوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ جو لوگ فساد برپا کرنے کے ذمہ دار ہیں وہ کسی طور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو برداشت نہیں کریں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہونے پر جس طرح آئی ٹی سیل والوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر میٹھائیاں تقسیم کی ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹرصاحب کا ٹوئٹ تو بس ایک بہانہ ہے اصل میں دہلی اقلیتی کمیشن کے تحت ان کی سرگرمیوں پر نشانہ ہے۔ دہلی فسادات کے دوران دہلی اقلیتی کمیشن کے ذریعے دہلی پولیس سے جواب طلبی وامن وامان کی برقراری کی ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے منظرِ عام پر آتے ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ جن لوگوں نے علانیہ طور پر پولیس کی موجودگی میں فساد برپا کرنے کی نہ صرف دھمکی دی تھی بلکہ کروایا بھی، وہ کسی طور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے دوران دہلی پولیس کے ذریعے کی جانے والی مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں پر بھی کمیشن کی جانب سے سخت رویہ اپنایا گیا۔ موقع تلاش کیا جاتا رہا کہ کس طرح ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی سرگرمیوں کو روکا جائے سو وہ موقع 28 اپریل کو ان کے ایک ٹوئٹ نے دے دیا، جس کے بعد بی جے پی کے سمبت پاترا و کپل مشرا جیسے لوگ اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ سرگرم ہوگئے اور نتیجہ غداری وطن کے مقدمے کی صورت میں سامنے آگیا۔

آسمانی آفات زمین پر رہنے والے انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرکے اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ کورونا وبا کے دوران لاکھوں لوگوں نے کروڑوں مجبوروں کا پیٹ بھرنے کے لیے اپنا ہاتھ کھول دیا، لیکن لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھا کر کچھ چوروں نے اپنا ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا اور پی پی اے پہنے ان کے چوری کرنے کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آگئے۔ دہلی پولیس اسی زمرے میں شامل ہے۔ 24 مارچ کو اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا، بھوک کے خوف سے ہزاروں مزدور28 مارچ کو سڑکوں پر نکل آئے۔ پہلے تو دہلی پولیس نے انہیں ڈرا دھمکا کر واپس بھیجنے کی کوشش کی مگر پھر خود ڈر گئی۔ اس کے بعد ہزاروں خاندان سڑکوں کے راستے سیکڑوں میل کا سفر کرکے اپنے گھروں کی جانب رواں دواں ہوگئے تھے لیکن دہلی پولیس نے اس مصیبت کی آڑ میں ایک نئی سازش شروع کردی۔ 3 اپریل کے اخبارات میں چھپنے والی ایک شرمناک خبر نے سب کو چونکا دیا۔

شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فساد کا درد جھیل رہے مصطفی آباد کی تکلیف اب تک ختم نہیں ہوئی تھی۔ راحت رسانی کا کام ابھی چل ہی رہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کردیا گیا۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے فساد کے نام پر کئی لوگوں کی گرفتاریاں شروع کردیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ جیلوں کے اندر بھیڑ کم کرنے کے لیے ملزمین کو رہا کیا جارہا تھا، اس ظالمانہ مہم کا آغاز ہوگیا۔ اس موقع پر ایک ویڈیو کے ذریعہ مسلم خواتین نے وزیراعظم سے مداخلت کرکے بچوں کی گرفتاریوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ خواتین نے یہ الزام بھی لگایا کہ دہلی پولیس نوجوانوں کو دھمکانے کے لیے کرونا وائرس پھیلانے کی دھمکی دے رہی ہے اور کرونا وائرس کی وبا کو تفتیش کے دوران ٹول کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کی جانب توجہ دیتی اس لیے اس کے سربراہ ڈاکٹر ظفرلاسلام خان نے دہلی پولیس کو شمال مشرقی دہلی کے فسادات سے متاثرہ علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی بے وجہ گرفتاری سے متعلق نوٹس جاری کیا۔ اس میں ان سے رشوت کا مطالبہ کرنے اور علی پور پولیس اسٹیشن کے تحت مکھمیل پور میں 3 اپریل کو ایک مسجد کو مبینہ طور پر ایک بھیڑ کے ذریعے شدید نقصان پہنچانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ کمیشن نے پولیس سے ایک ہفتے میں اپنی کارروائی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔ کمیشن نے نوٹس میں کہا تھا کہ اسے 3 اپریل کو شمال مشرقی ضلع سے ای میلز، واٹس ایپ میسجز اور فون کالز کے ذریعے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پولیس لاک ڈاؤن ختم ہونے سے پہلے ہی ہر روز درجنوں نوجوان لڑکوں کو بلاوجہ گرفتار کرتی ہے۔ نوٹس کے مطابق کمیشن نے اس سے قبل بھی شمال مشرقی دہلی کے ڈپٹی کمشنرآف پولیس کو ایک نوٹس میں توجہ دلائی تھی کہ ’ضلع میں نوجوان مسلمان لڑکوں کو غیر ضروری طور پر گرفتار کرنے کا رجحان قابل قبول نہیں ہے، ‘کمیشن نے اپنے نوٹس میں کہا کہ ’ایک بار لاک ڈاؤن ختم ہو جائے اور حالات معمول پر آ جائیں تو ہم ان گرفتاریوں پر گہری نظر ڈالیں گے۔‘

حکومت اس کی جانب توجہ کیا دیتی، اس نے تو سی اے اے تحریک میں حصہ لینے والے طلباء پر بھی انتقامی کارروائی کرنے کا ارادہ کرلیا تھا اور اس کے تحت ڈاکٹر کفیل خان، خالد سیفی، عشرت جہاں، سبو انصاری، میراں حیدر اور صفورہ زرگر جیسے اسکالرز اور کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردی تھیں۔ ساتھ ہی کشمیر میں ’دی ہندو‘ کے نامہ نگار عاشق پیر زادہ، فوٹو گرافر مسرت زہرا اور گوہر گیلانی کی چند سوشل میڈیا پوسٹس کو ’وطن دشمن اور اشتعال انگیز‘ قرار دے کر ’یو اے پی اے‘ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا معاملہ میڈیا کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہو رہا ہے وہ بہت غلط ہو رہا ہے۔ حکومت اپنے پاور کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ گجرات میں ان کی ایک پرانی تاریخ رہی ہے۔ اصل میں حکومت کی جانب سے پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سے یہ ثابت کیا جائے کہ دہلی فسادات کے ذمہ دار مسلمان ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جامعہ و شاہین باغ میں ہوئے سی اے اے مخالف مظاہروں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ جب کہ انہیں یقین ہے کہ جو لوگ بھی مظاہرے کر رہے تھے وہ پوری طرح پْر امن تھے اور کسی قسم کا تشدد ان کی طرف سے نہیں ہوا۔ جبکہ نارتھ ایسٹ دہلی میں جو فساد ہوئے وہ کپل مشرا کی وجہ سے ہوئے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے نارتھ ایسٹ دہلی کے فسادات پر ایک کمیٹی بنائی ہے، اور جلد ہی اپنی رپورٹ میں وہ بتائے گی کہ فساد کیسے پھوٹ پڑا، کس نے کرایا، کس کا نقصان ہوا، کون لوگ پکڑے گئے، کون نہیں پکڑے گئے، ایف آئی آر میں کس کے نام لکھے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان کی گرفتاریاں کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟ ان کو اس رپورٹ کے بنانے اور دودھ کا دودھ و پانی کا پانی کرنے سے روکنے کے لئے ایک ٹوئٹ کا بہانہ کیا گیا اور ان پر بغاوت کا مقدمہ جڑ دیا گیا۔ حالانکہ وہ اس پر وہ معذرت پیش کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں جو بات کہی ہے اس سے خطرناک بات تو معروف جہد کار جان دیال نے امریکہ کے عالمی مذہبی کمیشن کی رپورٹ کا خیر مقدم کرکے کہی ہے۔ اس رپورٹ میں حکومت ہند کے خلاف سخت اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ لیکن فی الحال جان دیال سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ معاملہ امریکہ کا ہے اس لیے اس کو نظر انداز کردیا گیا۔ لیکن ڈاکٹر ظفرالاسلام کو دہلی فسادات کے مظلومین کی حمایت اور حقائق کو پیش کرنے کی سزا دی گئی۔ خیر اس طرح کے مقدمات اکثر عدالت میں ٹھہر نہیں پاتے، اس لیے وہ اس سے بری ہو جائیں گے۔ لیکن اگر حکومت کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اس طرح ان کو ڈرانے دھمکانے میں کامیاب ہوجائے گی تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا