بلڈوزر بابا بھی مسلمان ہو گئے!... نواب علی اختر

’ون رینک، ون پینشن‘ کے نام پر ووٹ لینے والی بی جے پی آج ’نو پینشن، نو رینک‘ کا ڈرامہ کرکے نوجوانوں کو مزید بیروزگاری کے دلدل میں دھکیل رہی ہے۔

بلڈوزر، علامتی تصویر قومی آواز/ویپن
بلڈوزر، علامتی تصویر قومی آواز/ویپن
user

نواب علی اختر

حالیہ کچھ سالوں میں اس رجحان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ یا ہے کہ کسی بھی معاملے پر اگر مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو سرکاری حکام کی جانب سے اجتماعی سزا کے طور پر ان کے گھر زمیں دوز (بلڈوز) کر دیئے جاتے ہیں۔ ملک میں اب تک ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن کے بارے میں سرکاری حکام کا ایک ہی رٹا رٹایا جواب ہوتا ہے کہ یہ گھر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے خواہ آس پاس کے 90 فیصد مکانات غیرقانونی ہوں۔ حکومتوں کے یہ بلڈوزر صرف چند گھروں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولرازم کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ احتجاج انسان کا بنیادی حق ہے اور اسے سلب کرنے کا کسی حکومت یا انتظامیہ کو حق نہیں ہے بشرطیکہ پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے اوراگر پرتشدد احتجاج ہوتا ہے تویہ کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے خواہ کویٔی بھی کرے۔

لیکن بی جے پی زیرحکمرانی ریاستوں کی انتظامیہ نے مظاہروں کو بھی ہندو اور مسلمان بنا دیا ہے۔ کسی بھی ہنگامے کی صورت میں پہلے اسے ہندو اور مسلمان کے ترازو میں تولا جاتا ہے اور جب احتجاج کا پلڑا ہلکا ہوتا ہے تو مسلمانوں کو نشانہ بناکر حق کی لڑائی کو دہشت گردی اور غداری کا نام دیا جاتا ہے مگر جب احتجاج کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو وارانسی کے پولیس کمشنر ستیش بھاردواج جیسے اعلیٰ پولیس افسر مشتعل مظاہرین کو یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ اپنے بچے ہیں، کہیں باہر کے نہیں ہیں، انہیں سمجھانے کی ضرورت تھی، ان کو سمجھایا جا رہا ہے۔ کاش ستیش بھاردواج گزشتہ ہفتے (جمعہ) کو بھی اپنی ڈیوٹی یا کمشنر کی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے تو 15 سال کے معصوم کو سڑک پار کرتے ہوئے سرمیں گولی نہیں ماری جاتی اور نہ ہی باقی لوگوں پر کوئی ظلم ہوتا۔


فوج میں بحالی کے لیے مرکزی حکومت کی اعلان کردہ ’اگنی پتھ‘ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ فوج میں بھرتی ہوکر ملک کی خدمت کرنے کی تیاری کر رہے لاکھوں نوجوان حکومت کے فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، مگر حکومت جہاں خواب خرگوش میں ہے وہیں انتظامیہ کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ شاید اس لیے کہ یہ جمعہ نہیں بلکہ جمعرات والا احتجاج ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی نظر میں جمعرات کو ہونے والی ٹرین، گاڑیاں، تھانے میں آگزنی، توڑ پھوڑ، تشدد، لوٹ مار احتجاجی مظاہرے ہیں۔ اس پر کسی طرح کی گولی، آنسو گیس، لاٹھی چارج، واٹر کینن، گرفتاری، این ایس اے، پوسٹر چپکاؤ مہم، گھر توڑنا، بلڈوزر وغیرہ نہیں چلایا جاتا۔ اس میں کسی بھی اسلامی ملک سے کوئی دہشت گردی فنڈنگ بھی نہیں ہوئی ہوتی ہے۔ اس پر ہندوستان میں میڈیا کا ایک بڑا طبقہ منہ میں دہی جماکر بیٹھ جاتا ہے۔

وہیں دوسری جانب جمعہ کو ہونے والے مظاہرے کو غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس دن ایک پتھر یا بغیر پتھر والا ہاتھ بھی جس نے کرتہ، پاجامہ اور ٹوپی پہن رکھی ہو، وہ انتظامیہ کی نظر میں کسی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس لیے سڑک پار کرتے ہوئے 15 سالہ بچے کے سر میں گولی مار دی جاتی ہے۔ کچھ ’ایٹم بموں‘ کو تھانے میں بند کر کے ان پر ظلم کا پہاڑ توڑا جاتا ہے اور ان کی ویڈیو بھی بنائی جاتی ہے۔ کچھ ایٹم بموں کو گرفتار کرکے ان پر این ایس اے لگا دیا جاتا ہے اور کچھ کے پوسٹر شہر کی سڑکوں پر چسپاں کر دیئے جاتے ہیں۔ اس دوران بلڈوزر بابا بھی اپنی خدمات دیتے ہیں، وہ ان گھروں کو گرا دیتے ہیں جہاں یہ ’ایٹم بم‘ رہتے ہیں۔ اس میں دنیا کے تمام اسلامی ممالک نے دہشت گردی فنڈنگ بھی کی ہوئی ہوتی ہے۔ اس پر وہی میڈیا کا بڑا طبقہ اپنے منہ میں مائیک دبا کر کئی دنوں تک بیواؤں کی طرح ماتم کرتا ہے اور اپنی دکان چلاتا ہے۔


یہ بہت اچھی بات ہے کہ ملک کے امن کو ناپید کرنے کی سازش کرنے والے پرتشدد مظاہرے کا معاملہ سرخیوں میں ہے لیکن پریشان کن بات تو یہ ہے حکومت کی شہہ پر چند عناصر اس کی آڑ میں ایک مذہبی اقلیت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بعید نہیں کہ اپنے حساب سے قانون سازی میں ماہر حکومت اس معاملے میں بھی قانون بنا کر ہرطرح کے مظاہروں پر پابندی لگا دے، کیونکہ یہ عام بات ہوچکی ہے کہ مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو کچل دیا جاتا ہے۔ مگر ’اگنی پتھ‘ پر نوجوانوں نے حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا کرصاف پیغام دیا ہے کہ اب پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے۔ اب سے پہلے تک اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کئے جانے پربغلیں بجانے والے لوگ بھی اب حکومت کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں اس لیے ممکن ہے کہ مودی حکومت اپنی سوچ میں کچھ تبدیلی کرے۔

مودی حکومت کی ’اگنی پتھ‘ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج کے نتیجے میں سینکڑوں کروڑ روپئے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ملک کی ایک نہیں بلکہ کئی ریاستوں میں نوجوان اس اسکیم کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ ان کا احتجاج پرتشدد موڑ اختیار کر گیا ہے۔ کروڑہا روپئے مالیت کی ٹرینوں کو نذرآتش کیا جا رہا ہے اور ریلوے اسٹیشنوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ یہ بیروزگار نوجوانوں کا غصہ ہے کیونکہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ’ون رینک، ون پینشن‘ کے نام پر ووٹ لینے والی بی جے پی آج جب اقتدار میں ہے تو’نو پینشن، نو رینک‘ کا ڈرامہ کرکے نوجوانوں کو مزید بیروزگاری کے دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ مودی حکومت ان نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے اور انہیں عارضی طور پر روزگار کا جھانسہ دیا جا رہا ہے۔


اس احتجاج کے سبب ملک کی کئی ریاستوں میں بھاری نقصانات ہوئے ہیں جس کی وجہ سے شدت کے ساتھ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا بی جے پی حکومت ان توڑ پھوڑ کرنے والے مظاہرین سے بھی ہرجانہ وصول کرے گی؟ اور ان کے مکانات پر بلڈوزر چلائے گی۔ اترپردیش کی یوگی حکومت میں مسلمانوں کو ہر احتجاج کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ بنیادی حق کا مطالبہ کرنے والے مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ انہیں باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے احتجاج میں ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ یا معاوضہ وصول کیا جا رہا ہے۔ ان کے مکانات منہدم کئے جا رہے ہیں۔ ان کی دوکانوں پر بھی بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔ ایسا محض اس لئے کیا گیا کیونکہ یہ احتجاج کرنے والے ایک خاص طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔