اُٹھو اور ملک کو برباد کرنے والوں کا مقابلہ کرو… نواب علی اختر

بے خبری کی تو حد ہوتی ہے جو کچھ ہم نے کارنامے پہلے انجام دئیے، آج جہالت کے گٹر میں اسے خود ہی پھینک رہے ہیں اور خوش ہیں کہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

مسلمان، تصویر ویپن
مسلمان، تصویر ویپن
user

نواب علی اختر

ہندوستان میں عرصہ دراز سے مسلمان اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ جیتے آئے ہیں لیکن افسوس گزشتہ کچھ سالوں میں جہاں مسلسل مسلمانوں پر منظم طور پر جانی و مالی حملے ہو رہے ہیں وہیں پیہم فکری و مذہبی طور پر بھی انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ تو واضح ہے کہ جو لوگ شروع سے ہی مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ان کا ہم و غم ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کو ہراساں کیا جائے تو ظاہر ہے وہ اسی تگ و دو میں مشغول ہیں کہ کیا ایسا کچھ نیا کیا جا سکے کہ مسلمانوں کو مزید ہراساں کیا جائے۔ ان کی تو بات ہی کیا ہے، ان کی تو صبح شام ہی نفرتوں کا زہر پی کر سماج میں نفرتوں کا زہر گھولنے میں ہو رہی ہے لیکن ہمیں افسوس ان لوگوں پر ہے جو آج خود ہی ثقافتی و مذہبی جنگ میں دشمن کے محاذ پر اس کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کی ظاہری وضع قطع چیخ چیخ کر پکار رہی ہے کہ اسلام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بہت سے لوگ اپنے تشخص کو کھو دینے کے بعد بھی اس بات کو لیکر سوچنے تک کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ان کی اپنی شناخت ہے بھی یا نہیں اور شناخت اگر چھن گئی تو کیا انسان کی زندگی کا کچھ حاصل ہے، کیڑے مکوڑوں کی زندگی بھی کیا زندگی ہے جن کی اپنی شناخت نہیں ہوتی۔ وہ انسان جو اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے بالکل ایسا ہی ہے جس نے اپنے پورے سرمایے کو لٹا دیا ہو وہ کسی سے بھی ضمیر کا سودا کرنے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہی نہیں وہ کیا ہے اور اس کا وجود کس لئے ہے، وہ کہاں سے آیا ہے کہاں جانا ہے؟ آج ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں کیا حالات ہیں۔ اقتدار کی خاطر، کرسی کی خاطر کس طرح انسان انسان کو نوچ رہا ہے، مار رہا ہے، کاٹ رہا ہے، اس کے گھر کو تباہ کر رہا ہے، چھوٹے چھوٹے بہانوں کی آڑ میں مظلوموں کی بستیوں کو اجاڑ رہا ہے، غریبوں کے سر چھپانے کی جگہوں کو زمین دوز کر رہا ہے۔


یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ انسان معیار انسانیت پر نہیں بلکہ معیار حیوانیت پر جی رہا ہے۔ ایسے میں کون ہے جو ان لوگوں کو انسانی معیار کی طرف دعوت دے جو انسانی اصولوں کو بھول کر جنگل راج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ظاہر ہے وہی امت دعوت دے سکتی ہے جس کے وجود کے اندر جذبہ تسلیم و رضا ہو، اپنے مالک کے سامنے بے چوں چرا جھک جانا، اس کے حکم کی خاطر خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانے جیسی تعلیمات ہوں۔ اب مشکل یہاں پر ہے کہ جب کوئی خود ہی مریض ہو جائے تو مریض کا علاج کیا کرے گا؟ ہمارے سامنے آج ملک میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلمان جو اذان میں اللہ اکبر کی آواز بلند کرتا ہے وہ اتنا چھوٹا ہو گیا ہے کہ بونوں کی طرح کچھ ہتھیلیوں پر ناچ رہا ہے۔ شناخت کے بحران کے ایسے دور سے گزر رہا ہے جو مسلمانوں کی اب تک کی تاریخ میں نہیں دیکھا گیا۔

ہم نے اس ملک میں قربانیاں دی ہیں، ہم نے اس ملک کی خاطر جانوں کا نذرانہ دیا ہے، ہم نے اس ملک میں چھوا چھوت کی بیماری کا مقابلہ کر کے بتایا ہے کہ انسانوں کے ساتھ کس طرح انسانی طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہاں استعمار کا اس وقت مقابلہ کیا جب لوگ سامراج کے تلوے چاٹ رہے تھے، ہم اس وقت بیرونی طاقتوں کے خلاف ڈٹے رہے جب کچھ لوگ مخفیانہ طور پر ملک کی زمینوں کو بیچ رہے تھے۔ کاش ہم اپنی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے اور دیکھتے کہ ہمارا ماضی کتنا درخشاں ہے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ بے خبری کی تو حد ہوتی ہے جو کچھ ہم نے کارنامے پہلے انجام دئیے، آج جہالت کے گٹر میں اسے خود ہی پھینک رہے ہیں اور خوش ہیں کہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔


کہاں ہے ہمارا اسلامی تشخص جو کہتا ہے کہ مظلوموں کا ساتھ دو ظالموں کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹ جاؤ، کہاں ہے ہمارا تشخص جو آواز دیتا ہے کہ محروموں کو اگر ان کے حق سے محروم کیا گیا تو تم بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاوگے، ان کے لیے بولو کھڑے ہو، ان کے حق میں آواز اٹھاو، کہاں گیا ہمارا تشخص جو کہتا ہے کہ اپنے ملک سے غداری نہ کرو جس وطن کی مٹی میں تم پیدا ہوئے جس کی مٹی میں خاک ہو جاوگے اگر کوئی اسے تباہ کرے تو تمہارا فرض ہے کہ ملک کو برباد کرنے والوں کا مقابلہ کرو تدبیر سے کام لو منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھو۔

لیکن افسوس بجائے اس کے کہ ہم اپنے تشخص کو باقی رکھتے ہوئے اپنے ملک کی تعمیر کے بارے میں سوچتے، اپنے آپ کو کٹھ پتلی بنائے ہوئے ہیں۔ نہ اپنی فکر کہ سرحدوں کا دفاع کرتے ہیں، نہ اخلاق و دین کے محاذ پر ہی ڈٹے ہوئے ہیں۔ نفرتوں کے بجاری روز بروز ہمیں پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں اور ہم ہر دن کے سورج کے ساتھ تاریک راتوں کو اپنا مقدر بنائے جا رہے ہیں۔ ہمیں ویسے ہی ملک کے لئے جینا ہوگا جیسے مجاہدین آزادی نے زندگی گزاری، خوف کس بات کا، ڈر کس چیز کا؟ ہم نے کبھی ملک کو توڑنے کی کوشش نہیں کی ہمیشہ اپنے وطن کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔ جب وہ لوگ جنہیں آسانیاں چاہیے تھیں، اچھی زندگی چاہیے تھی اس ملک کو چھوڑ کر چلے گئے تب بھی ہم محرومیوں میں رہے لیکن ہم نے اپنے ملک کے ساتھ دغا نہ کی تو آج بھی ہم سر اٹھا کر کیوں نہیں جی سکتے۔


ہم اپنے ایمانی تشخص کے ساتھ کیوں نہیں جی سکتے؟، ہماری صفوں میں اختلاف کی وجہ سے دشمن کو محسوس ہو گیا ہے کہ ان کی فکری بنیادیں خود ان کی کھوکھلی فکر کی بنیاد پر متزلزل ہو گئی ہیں تبھی وہ بھی ہر طرف سے حملہ آور ہے۔ کبھی حجاب، کبھی اذان، کبھی حلال گوشت یہ اور کچھ نہیں در حقیقت ہمیں مکمل طور پر دشمن کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اب ہم میں سے بعض نادان و احمق بھی وہی باتیں کریں جو اس ملک کو توڑنے والے کر رہے ہیں تو یہ ملک و قوم کے ساتھ خیانت ہے۔ کوئی بھی خیانت کرے لیکن ہمارا سلامی تشخص ہمیں خیانت کرنے سے روکتا ہے لہذا ہم سب پر فرض ہے کہ اپنے تشخص کی طرف آئیں اور سربلندی کے ساتھ اسی طرح جئیں جس طرح ہم پہلے جیتے رہے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔