میڈیا کا ’دھرم پریورتن‘ طوفان کا پیش خیمہ!... نواب علی اختر

اب جبکہ بابری مسجد کا مسٔلہ دفن ہوچکا ہے تو دوسری مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ان مساجد کا موقف برقرار رکھنے سے متعلق ملک میں قانون موجود ہے۔

میڈیا، علامتی تصویر آئی اے این ایس
میڈیا، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

یک وقت تھا جب عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے میڈیا اقتدار کی چول سے چول بجا دیتا تھا، حکومت کی ناکامیوں کا ارباب اقتدار کے سامنے برملا اظہارکرتا تھا، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل کو اہمیت دی جاتی تھی، اس پر حکومت سے جواب طلب کیا جاتا تھا۔ اپوزیشن کے جذبات و احساسات کو پیش کرنے کی ذمہ داری میڈیا کی ہوا کرتی تھی لیکن اب تقریباً تمام قومی میڈیا اپنے ضمیر کو طاق پر رکھ حکومت کے زر خرید اداروں کی طرح کام کر رہے ہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ میڈیا دھرم پریورتن کرکے حکومت کی گود میں جابیٹھا ہے اور وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو فراموش کرکے محض حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے اور ارباب اقتدار سے وفاداری دکھانے میں لگا ہوا ہے۔ ایسے میں اس نے عوام کو پیش آرہے روز مرہ کے مسائل کو فراموش کر دیا ہے۔

مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی نیندیں چھین لی ہیں، مگر حکومت لگاتار ’دیش بھکتی‘ اور’راشٹر بھکتی‘ کے ڈوز دے کر محبان وطن کے جذبات سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت کے ہتھکنڈوں کو ہمارا قومی میڈیا بھی پوری طرح سپورٹ کر رہا ہے جس کی وجہ سے ارباب اقتدار کے حوصلے بلند ہیں اور وہ زمین پر دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ بعید نہیں جب ان مسائل پر عوام کے غصے کا لاوا پھوٹ جائے اور وہ نام نہاد دیش بھکتوں کے خلاف سڑکوں پر آجائیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ لاوا پھوٹنے کے عذاب سے بچنے کے لیے حکومت کے چاٹوکار کسی نئی مسجد کے جواز کا شوشہ چھوڑ کر پریشان حال لوگوں کی توجہ عبادت گاہ کی طرف موڑ دیں اور پھر یہ تمام مسائل دب جائیں اور پورا میڈیا حکومت سے وفاداری ثابت کرنے کی تگ ودو میں لگ جائے۔


کیونکہ ہمارے ملک میں مذہب کے نام پر قوانین سے کھلواڑ کرنا عام بات ہوگئی ہے۔ لا قانونیت کو مذہب سے جوڑتے ہوئے یا عقیدہ کا نام دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑانا کوئی گناہ نہیں مانا جاتا ہے۔ ملک کی ترقی اور امن و امان پر توجہ دینے کی بجائے قانون کو بگاڑنے کا کام کرنا باعث فخر سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماج میں نفرت پیدا کی جا رہی ہے، سماج کے دو بڑے طبقات کے مابین خلیج پیدا کی جا رہی ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے متنفر کیا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے کا دشمن بنایا جا رہا ہے۔ مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں پر دعوے کرتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے۔

بابری مسجد پر فیصلے کے بعد فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور اب ان کے لیے دوسری مساجد کو نشانہ بنانا آسان نظر آنے لگا ہے۔ اس کے لیے عدالت کا سہارا لیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی عبادت گاہ کے تعلق سے دعوی کرنا خود ملک کے قانون کے خلاف ہے۔ ہندوستان میں ایک قانون بنایا گیا تھا جس کے تحت 15 اگست 1947 کو جس کسی عبادت گاہ کا جو بھی موقف تھا اسے برقرار رکھا جائے گا۔ تاہم اب اس قانون سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور گیان واپی مسجد پر دعوی کرتے ہوئے مقامی عدالت کے ذریعہ احکام جاری کر دیئے گئے ہیں۔ یہاں بابری مسجد معاملے کی طرح عقیدہ یا آستھا کو ہی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ 1991 میں ملک میں جو قانون بنایا گیا تھا اس کے تحت کسی بھی عبادت گاہ کے موقف کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔


فریقین کے نمائندے بھی عدالتوں میں اس قانون کے تحت پیروی نہیں کر رہے ہیں اور جو مخالف وکلاء ہیں وہ صرف الٹ پھیر اور نت نئے دعووں کے ذریعہ عدالتوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ جو قانون 1991 میں بنایا گیا تھا اس کے تحت صرف رام جنم بھومی۔ بابری مسجد مسئلہ کو اس سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔ تاہم اب دوسری مساجد کو نشانہ بناتے ہوئے مہم شروع کردی گئی ہے اور اس کے ذریعہ قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور پھر جو احکام جاری کئے جا رہے ہیں اسے بھی قانون کا ہی نام دیا جا رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ قانون کے رکھوالے ہی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

سبھی جانتے ہیں ملک میں اس طرح کا قانون موجود ہے اس کے باوجود اپنے بے بنیاد دعوؤں کو منطقی موقف دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس میں یہ لوگ کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ آج ملک میں جو حالات ہیں وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ سبھی گوشے ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کریں، نزاعی اور اختلافی مسائل کو فراموش کر دیا جائے، مذہب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کا موقع نہ دیا جائے، معیشت کے استحکام کے لیے کام کیا جائے، بیروزگاری کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کی جائے۔ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جائیں۔ عوام پر جو مسلسل بوجھ ڈالے جا رہے ہیں، ان کو اتارکر انہیں راحت پہنچانے کی سمت کوششیں کی جائیں۔


تاہم ان تمام اہم مسائل کو کہیں پس پشت ڈالتے ہوئے مذہب کی آڑ لیتے ہوئے آئندہ انتخابات کی تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ بی جے پی نے بابری مسجد مسئلے کو کئی برسوں سے سیاسی ترقی کے لیے استعمال کیا۔ کچھ عناصر نے اس میں بی جے پی کی ممکنہ حد تک بالواسطہ مدد بھی کی۔ اب جبکہ بابری مسجد کا مسٔلہ دفن ہوچکا ہے تو پھر دوسری مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ان مساجد کا موقف برقرار رکھنے سے متعلق ملک میں قانون موجود ہے۔ حکومتوں کو اس قانون کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا کیا نہیں جا رہا ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے جسے عام لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ تباہ ہو جائے گا جس کے لیے ہندوستان پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

موجودہ وقت میں جب ہرطرف نفسا نفسی کا عالم ہے، انسان کو انسان سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ یکجہتی کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں میڈیا کو اپنے اصل مذہب کی طرف واپس آکر قومی مفاد میں اپنے فرائض اور ذمہ داری ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کثیر المذاہب ہندوستان کی آن بان شان باقی رہ سکے بصورت دیگر میڈیا کا ’دھرم پریورتن‘ انسانوں کے درمیان ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جس سے وطن عزیز کو طویل مدتی نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ ملک کی کوئی عمر نہیں ہوتی مگر سیاستدانوں کی عمر بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ وہ اس وقت تک ہی ملائی کھا سکتے ہیں جب تک عوام خاموش رہتے ہیں اور جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا تو انہیں منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔