ہندوستان پہلے تو ایسا ہرگز نہ تھا!... نواب علی اختر

حیرت تو مجھے اس بات پر ہے کہ اس صوتی الودگی کو بھی مسلم اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول تیار کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

لاؤڈ اسپیکر
لاؤڈ اسپیکر
user

نواب علی اختر

ہندوستان کے سیاسی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلی کو ہم محسوس کر رہے ہیں لیکن اگر ان تبدیلیوں کے بارے میں اظہار خیال کیا جائے تو وہ بظاہر معمولی واقعات اور غیر اہم حادثات کا ایک مجموعہ دکھائی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی پیکٹ پر اردو یا عربی لکھی ہوئی ہے اور کوئی نیوز چینل اسے ایک مسئلے کے طور پر پیش کرے اور اسے وطن مخالف قرار دے تو کیا اس کو اہم گردانا جائے گا؟ ہم اسے سیاسی منظر نامے پر رونما ہونے والا ایک عام واقعہ قرار دے کر پانچ منٹ کی بحث کے بعد ہی ختم کر دیں گے، ہم تو گوشت فروشوں کی دکانوں پر توڑ پھوڑ اور زبردستی ان کے شٹر گرائے جانے پر بھی خاص برہمی کا اظہار نہیں کرتے یا یہ بیان بازی سے آگے نہیں بڑھتی۔

تازہ ترین واقعہ جو چند روز قبل ہی وقوع پذیر ہوا، جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں رام نومی جیسے موقع پر کینٹین میں گوشت کا کھانا کیوں دستیاب ہے؟ اس ’کیوں‘ کی تلاش میں اینٹ، پتھر، لاٹھی اور ڈنڈوں سب کا استعمال کیا گیا۔ یہ چند مثالیں ہیں، جو پوری شدت کے ساتھ ہماری یادداشت کا حصہ ہیں۔ اگر ان واقعات کو اور ان جیسے نا جانے کتنے ہی لاتعداد واقعات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات مسلسل کیوں ہو رہے ہیں؟ آج سے تقریباً 15 سال پہلے ہم نے جو ہندوستان دیکھا تھا وہ اس طرح تو ہر گز نہ تھا۔ سورج طلوع ہوتے ہی لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسہ اور دیگر بھجن گائے جاتے تھے اور اس کے باوجود گاؤں میں رہنے والے لوگوں کے لیے یہ مسئلہ نہیں تھا، حتیٰ کہ رمضان کے دنوں میں سحری سے لے کر فجر کی اذان تک جاری رہنے والی حمد و ثنا سے بھی سونے والوں کی نیند میں کوئی خلل نہیں پڑتا تھا، تو پھر آج اذان، نماز، لباس اور کھانا، یہ اتنے اہم اور سنگین مسائل کیسے بن گئے؟


لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے صوتی آلودگی پھیلانا کسی ایک مذہب کا خاصہ نہیں ہے۔ مگر کیا کیا جائے، یہ معاملہ بھی ملک میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہو گیا ہے۔ جنونی ہندو فرقہ پرست اس وقت مساجد میں اذان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب ان کو کون بتائے کہ اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کر دیکھو۔ یہ اذان تو بس چند منٹ ہی ہوتی ہے۔ ہر شام جب آفس یا مزدوری کرنے کے بعد تھکے ہارے لوگ گھروں کو آ کر تھکن مٹانا چاہتے ہیں، تو علاقے کے مندر کا لاؤڈ اسپیکر جاگ جاتا ہے اور رات گئے تک آرتی براہ راست گھروں میں نشر ہوتی رہتی ہے۔ رام نومی یا دیگر جلوسوں میں ڈی جے اس قدر اونچی آوازوں میں بجائے جاتے ہیں کہ کبھی بھی کوئی بھی شخص ہارٹ اٹیک کا شکار ہوسکتا ہے، اگر اس جلوس کو کسی مسلم علاقے سے گزرنا ہے، تو وہاں ڈی جے کی آواز کچھ زیادہ ہی اونچی کردی جاتی ہے۔ دسہرہ سے قبل تو ہر علاقے میں پوری رات اسٹیج ہوتے ہیں۔ حیرت تو مجھے اس بات پر ہے کہ اس صوتی الودگی کو بھی مسلم اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہر باشعور شخص کے لیے خواہ یہ چند مٹھی بھر لوگ ہی ہوں لیکن در حقیقت یہ مٹھی بھر لوگ نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ایک لائحہ عمل کے تحت کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف چند واقعات نہیں ہیں، جو ہمیں نظرآ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا پروپیگنڈا ہے، جسے ایک سیاسی جماعت ہر ممکن انداز میں پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جماعت کی کوشش میں جس نے دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دیا ہے، وہ فلمی صنعت اور سوشل میڈیا ہے۔ اس بات کو ممکن بنانے کے لیے ’کشمیر فائلز‘ جیسی پروپیگنڈا فلم کو منظر عام پر لایا گیا، یقیناً ماحول کو اس طرح تراشا گیا ہے۔ یہ صورت حال ایک دن میں تو ہر گز نہیں پیدا کی جا سکتی تھی۔ ہم ایسی قوم ہیں، جن کے لیے فلم کے ڈائیلاگ، اس کی کہانی اور کردار ہماری زندگی میں بھر پور عمل دخل رکھتے ہیں۔


فلمی کرداروں کی نقل سے لے کر ان کی پرستش تک ہم پیچھے نہیں ہیں۔ ایسے میں سینما ایک پروپیگنڈا کے تحت ہندوؤں کے تحفظ، رام، ہنومان اور شیوجی جیسے کرداروں کو ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہیرو کی حیثیت دلوانے پر مصر ہیں۔ اگرچہ اس میں کوئی برائی نہیں کہ یہ ہندوؤں کے لیے قابل احترام دیوتا ہیں، لیکن اس پروپگینڈے کے پیچھے جو بدنیتی ہے، وہ ہمارے ذہنوں اور سادہ دل لوگوں کی زندگی کو جس طرح متاثر کر رہا ہے، وہ قابل تشویش ہے۔ تفریح (انٹرٹیٹمنٹ) کے نام پر چلائی جانے والی ان تحریکوں نے سادہ دل عوام کے ذہن کو بدل دیا ہے تا کہ وہ حقیقی اور زمینی مسائل کی جانب نگاہ ہی نا اٹھا سکیں۔

ہم اس کی الگ الگ انداز میں تاویل پیش کر سکتے ہیں مثلاً یہ کہ خاص ذہنیت یا مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بے روزگاروں کو پیسے دے کر، کچھ لوگ اس طرح کے کام کرواتے ہیں لیکن حالات کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے، اپنے گردو پیش پر نظر دوڑانے سے اندازہ ہو گا کہ یہ چند اشخاص نہیں ہیں بلکہ ہمارے ساتھ زندگی گزارنے والے وہ لوگ ہیں، جن کی فکر و نظر زہر آلودہ ہو گئی ہے۔ یہ زہر صرف سیاست دانوں کی تقاریر اور بیانات میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ عام لوگوں کے رویوں میں چیختا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں ہر دن آپ اپنے پڑوس، اپنے محلے اور اپنے شہر میں دیکھ رہے ہیں اور ان واقعات پر سوائے کف افسوس ملنے اور بدلتے ہوئے حالات کا رونا رونے کے کچھ نہیں کر سکتے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔