مندر ڈھونڈھو روزگار اسکیم شروع... نواب علی اختر

اسکیمیں تو خوب بناٖی جاتی ہیں مگر انہیں زمین پر اتارتے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی ناکامیاں ان کے لیے عذاب نہ بن جائیں۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

ملک میں جاری بڑی بڑی روزگار اسکیموں میں زبردست ناکامی کے بعد ہندوستان میں ’مندر ڈھونڈھو روزگار‘ اسکیم شروع کردی گئی ہے جس کے تحت تقریباً ہر روز کسی نہ کسی مسجد سے اچانک ’مندر‘ نکال کر ایک نئے بھگوان کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ کئی روز سے جاری ہے جس میں بھگوان کو پوجنے کا دم بھرنے والا ایک انسان دوسرے انسان کو مارنے کاٹنے کو بھی تیار ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ مذکورہ ’اسکیم‘ کے ہنگامے میں خون کے آنسو رُلا دینے والی مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی دب کر رہ گئی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ تمام خرافاتیں سیاست سے متاثر ہیں اور ان سب کے لئے ایک مخصوص گروہ کو باقاعدہ طور سے معاشرے میں نفرت پھیلا کر ملک کی گنگا-جمنی تہذیب کو آگ لگانے کا روزگار دیا گیا ہے۔

ان حالات میں مرکز میں بھی بی جے پی حکومت اور اس کے حکمرانوں کے طرزعمل سے صاف ہوگیا ہے کہ یہ لوگ سیاست کے لیے ملک اورعوام کی ترقی، فلاح وبہبود کے سوا کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی بجائے گزشتہ حکومتوں کی طرف سے فراہم کی گئیں سہولیات کو اپنا بتا کر واہ واہی لوٹنے والے حکمرانوں کو بس ایک ہی طریقہ آتا ہے کہ جب تک عام لوگ آپس میں لڑتے مرتے رہیں گی، ان کی سیاسی دکان پھلتی پھولتی رہے گی۔ آج کے رہنماؤں کے رویئے سے یہی نظر آتا ہے کہ انہیں تعلیم، صحت، روزگار جیسے سُلگتے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسکیمیں تو خوب بناتے ہیں مگر انہیں زمین پر اتارتے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی ناکامیاں ان کے لیے عذاب نہ بن جائیں۔


ان سب کے درمیان ہمیں میڈیا کی بھی پیٹھ تھپتھپانا چاہئے جو انتہائی ناگفتہ بہ حالات کے باوجود حکومت کو آئینہ دکھانے کے بجائے اس کا گُن گان کرتا رہتا ہے۔ اسی زر خرید میڈیا کی بدولت ہندوستان ایسا ملک ہوگیا ہے جہاں عوام کو درپیش انتہائی اہمیت کے حامل اور سلگتے ہوئے مسائل کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے عوام کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ان پر مسلسل ڈالے جانے والے بوجھ کی کسی کو فکر یا پرواہ نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنے ایجنڈے کو پروان چڑھانے میں مصروف ہے۔ دیکھا جائے تو صرف اور صرف حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے اور عوام کو مذہبی تعصب کا شکار بناتے ہوئے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرنے کی کوشش کے سواء کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی مہنگائی کی آگ پر نفرت کا تیل ڈال کر سماج کو جلانے کی کوشںیں لگاتار جاری ہیں۔

جو لوگ اونچی اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر مذہبی منافرت پھیلانے کا کام کر رہے ہیں انہیں مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں ہے کیونکہ ان کو حکومت کے انعامات اور غلامی کی قیمت مل جاتی ہے اور وہ بیہودہ راگ الاپتے رہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب میڈیا عوام کو درپیش مسائل پر حکومت کو گھیرتا تھا۔ حکومت کی ناکامیوں کو اس کے سامنے پیش کرتا تھا۔ مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اس پر حکومت سے جواب طلب کیا جاتا تھا۔ اپوزیشن کے جذبات و احساسات کو پیش کرنے کی ذمہ داری میڈیا کی ہوا کرتی تھی لیکن آج تقریباً نام نہاد پورا قومی میڈیا حکومت کے زر خرید اداروں کی طرح کام کر رہا ہے۔ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں اور عوام کے ذہنوں سے بھی یہ مسائل محو کرنے کی کوشش کرنے میں لگے ہیں۔


آج مہنگائی ملک کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نے عام آدمی کا جینا مشکل کردیا ہے۔ دو وقت کی روٹی کے سواء عام آدمی کو کچھ اور سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ایک طرح سے حکومت اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوگئی ہے اور اس کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ پٹرولیم اشیا کی قیمتوں سے لے کر دودھ تک، ادویات سے لے کر اناج تک، دالوں سے لے کر سبزیوں تک ہر شئے کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکومت کے ذمہ داروں سے اگر اس پر سوال کیا جائے تو کوئی کہتا ہے کہ وہ لہسن نہیں کھاتے، کوئی کہتے ہیں کہ وہ پیاز استعمال نہیں کرتے۔ خود وزیر اعظم اس انتہائی حساس اور اہمیت کے حامل مسئلہ پر ایک لفظ تک کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ ’من کی بات‘ میں کئی مسائل کا احاطہ کرنے والے مودی جی کو مہنگائی کے مسئلہ پرسانپ سونگھ جاتا ہے۔

وہیں جب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت سے سوال کیا جا رہا ہے تو بی جے پی کے قائدین کوئی واضح جواب دینے کی بجائے اپوزیشن کو تنقیدوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اپنی حکومت کی کارکردگی پر جواب دینا ان کا فریضہ ہے۔ اپوزیشن کا ذمہ ہے کہ وہ حکومت سے سوال پوچھے اور اس پر سیدھے جواب دیا جائے۔ کوئی وضاحت اگر ہو تو کی جانی چاہئے لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔ الٹا اپوزیشن کو اور سوال پوچھنے والوں کو لتاڑا جا رہا، ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ یہ ہماری جمہوریت اور وفاقی حکمرانی کے اصولوں کے ساتھ مذاق ہے، اس سے گریز کرنا چاہئے۔ حکومت کو اور خود ملک کے وزیر اعظم کو صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مہنگائی اور بیروزگاری پر جو بھی سوال کئے جا رہے ہیں ان کا موثر اور سنجیدگی سے جواب دینا چاہئے۔


حقیقت میں سیاسی قائدین ہوں یا پھر حکومت کے نمائندے ہوں کسی کو بھی اس بات کی فکر نہیں ہے کہ ملک کے عوام کی حالت کیا ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی نے عوام پر کس حد تک بوجھ عائد کر دیا ہے۔ پٹرول قیمتوں پر عوام کو کس طرح سے لوٹا جا رہا ہے۔ ماچس کی خریدی سے لے کر پٹرول پر عوام کو محض ٹیکس وصول کرنے کی مشین بنا دیا گیا ہے۔ لیکن انہیں مذہب کی بحث میں الجھا کر اپنے مفادات کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ خود سیاسی قائدین کو مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ کہاں اسپیکر پر اذان دی جا رہی ہے یا کہاں ہنومان چالیسا گایا جا رہا ہے۔ انہیں صرف اپنے مفاد کی اور اپنے ووٹوں کی فکر ہوتی ہے۔ انہیں کسی بھی حال میں خود کو عوام کے درمیان رکھنا ہوتا ہے۔ عوام کو اس صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ایسے قائدین کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔