راہل گاندھی، ایک دور اندیش رہنما...سید خرم رضا

راہل گاندھی کے متعدد بیانات ایسے ہیں جو بعد میں لفظ بہ لفظ صحیح ثابت ہوئے اور وقت رہتے اگر حکومت ان کے بیانات کی روشنی میں فیصلے لے لیتی تو ملک بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتا

راہل گاندھی / ٹوئٹر @INCIndia
راہل گاندھی / ٹوئٹر @INCIndia
user

سید خرم رضا

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اس وقت ایک انتہائی آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں۔ آزمائش اس لئے نہیں کہ ملک کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں، آزمائش اس لئے نہیں کہ کانگریس پارٹی سیاسی میدان میں اچھا نہیں کر رہی، آزمائش اس لئے بھی نہیں کہ ای ڈی کی ان سے تین دن لگاتار کئی گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد بھی پوچھ تاچھ ختم نہیں ہو رہی، بلکہ آزمائش اور پریشانی اس بات کی ہے کہ ان کی والدہ سونیا گاندھی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور وہ ان کی اس طرح خدمت نہیں کر پا رہے جس طرح ایک بیٹے کو اپنی بیمار والدہ کی کرنی چاہئے۔ اس سب کے باوجود ان کے چہرے پر ہلکی سی دبی مسکان ہمیشہ نظر آتی ہے اور ان کے اندر پریشانی کے کتنے ہی سمندر اچھال مار رہے ہوں لیکن باہر سے وہ پوری طرح پرسکون نظر آ تے ہیں اور کسی کو اپنی پریشانی سے پریشان نہیں ہونے دیتے۔

انہوں نے کیونکہ بہت چھوٹی سی عمر سے ہر طرح کے غم کا سامنا کیا ہے، شاید انہی غموں نے ان کو باہر سے پر سکون رہنا سکھا دیا ہے۔ سیاسی میدان ہو یا ذاتی محاذ انہوں نے ہر طرح کی آندھی کو جھیلا ہے اور کبھی کسی آندھی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ جو دور اندیشی اور حب الوطنی کا جذبہ ان کے اندر موجود ہے اس میں ان کے خاندان اور ان کی پرورش کا دخل ہے۔ ان کے خاندان نے بھی ملک کو ہمیشہ خود سے اوپر رکھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی دادی اور والد کام کرتے ہوئے ملک کے لئے شہید ہو گئے۔


جب ہم دور اندیشی کی بات کرتے ہیں تو راہل گاندھی کے متعدد بیانات ایسے ہیں جو بعد میں لفظ بہ لفظ صحیح ثابت ہوئے اور وقت رہتے اگر حکومت ان کے بیانات کی روشنی میں فیصلے لے لیتی تو ملک بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتا۔ ویسے تو ہر پہلو پر انہوں نے اپنی رائے دی ہے جو بالکل درست ثابت ہوئی لیکن زرعی قوانین پر انہوں نے پہلے دن سے جو رائے رکھی تھی وہ ایک سال بعد اس وقت صحیح ثابت ہوئی جب حکومت نے متنازعہ تینوں زرعی قوانین واپس لے لئے۔ حکومت اگر وقت رہتے راہل گاندھی کی بات مان لیتی تو ایک سال تک جو کسانوں، عوام اور حکومت کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اس سے یہ تینوں بچ جاتے۔ اس احتجاج کے دوران 700 کسانوں کی شہادت کی جو بات ہوتی ہے وہ شاید نہ ہوتی۔ راہل گاندھی نے کورونا وبا کے تعلق سے کہا تھا کہ اس کی سونامی آنے والی ہے اس لئے حکومت اقدامات کر لے لیکن حکومت نے ضروری اقدامات نہیں لئے جس کی وجہ سے متعدد لوگوں کی جانیں گئیں اور ان کی لاشوں کی جو بے حرمتی ہوئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ حکومت اگر راہل گاندھی کی ان باتوں کو مان لیتی تو شاید ایسی نوبت نہ آتی۔

راہل گاندھی حکومت کی مخالفت محض مخالفت کے لئے نہیں کرتے بلکہ ان کے اندر جو حب الوطنی کا جذبہ ہے اس کی وجہ سے وہ سوال بھی اٹھاتے ہیں اور پالیسیوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ راہل گاندھی سے جب بھی ملاقات ہوئی اس سے ایک اندازہ ہوا کہ وہ ان بنیادی مسائل سے سمجھوتہ نہیں کرتے جن سے ہندوستانی نظریہ کو کوئی نقصان ہوتا ہوا نظر آئے۔


راہل گاندھی آج کھل کر حکومت کی فوج میں بھرتی کے لئے متعارف کرائی گئی ’اگنی پتھ‘ اسکیم کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن وہ اس کی مخالفت سیاسی وجوہات سے نہیں کر رہے بلکہ وہ شاید دیکھ پا رہے ہیں کہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل پر اس اسکیم کا کیا اثر پڑے گا۔ انہیں اس بات کا بہت اچھی طرح علم ہے کہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہیں اور اگر ان کا مستقبل متاثر ہوگا تو ملک کا مستقبل بھی تابناک نہیں ہو سکتا۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ راہل گاندھی دور اندیش اور حب الوطن رہنما ہیں اور وقت نے ان کو تجربات کے ذریعہ جو سکھایا ہے اس نے ان کے اندر مزید نکھار پیدا کر دیا ہے۔ لوگ چاہے ان کی کتنی بھی مخالفت کریں لیکن ان کی شخصیت کے متعدد پہلو ایسے ہیں جو انسان کی ہر کمی سے اوپر ہیں اور وہ پہلو ہی ان کو اوروں سے منفرد بناتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ ان کی والدہ انہیں کتنا چاہتی ہیں اور وہ ان کے کتنے قریب ہیں اور وہ اپنی والدہ کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ آج کی ان کی سالگرہ کے موقع پر ان کا اسپتال میں ہونا راہل کے لئے ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کے لئے فکر کی بات ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔