بی جے پی کی ’ایوارڈ پالیٹکس‘ بے نقاب... سہیل انجم

بی جے پی اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کا یہ دعویٰ کہ وہ الیکشن کو ذہن میں رکھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتے بارہا بے نقاب ہوا ہے۔ اب ایک بار پھر بی جے پی کی ایوارڈ پالیٹکس بے نقاب ہوئی ہے۔

تصویر بشکریہ یو این آئی
تصویر بشکریہ یو این آئی
user

سہیل انجم

یوں تو بی جے پی کے بیشتر رہنما اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی بار بار اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ الیکشن کی سیاست نہیں کرتے۔ الیکشن آتے جاتے رہیں گے۔ وہ ملک کی خدمت کے مقصد سے اقدامات کرتے ہیں۔ لیکن اگر بہ نظر غائر ان کے اور ان کی پارٹی کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا ہر قدم انتخابی مفاد کو سامنے رکھ کر اٹھتا ہے۔ وزیر اعظم تو خاص طور پر ہمیشہ الیکشن ہی کے موڈ میں رہتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جو اسکیمیں بنائی جاتی ہیں وہ بھی مختلف ریاستوں کی آبادیوں اور ووٹروں کے نفع نقصان کی ضرب تقسیم کے بعد ہی بنائی جاتی ہیں۔ انھی اقدامات میں ایک قدم ایوارڈوں کا اعلان بھی ہے۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اس وقت پانچ ریاستوں میں انتخابی مہم چل رہی ہے۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ جب بھی کہیں الیکشن ہو رہا ہو تو کم از کم اس ریاست کے بارے میں جہاں انتخابی مہم چل رہی ہو کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے جو اپنے اندر رائے دہندگان کو متاثر کرنے کے امکانات رکھتا ہو۔ لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ جس ریاست میں الیکشن ہوتا ہے وہاں کے ووٹروں کو بہلانے اور پھسلانے کے لیے اس حکومت کی جانب سے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ تازہ اعلان حکومت کی جانب سے سپر اسٹار رجنی کانت کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا جانا ہے۔

رجنی کانت جنوب کے سپر اسٹار ہیں۔ شمال میں بھی ان کے عقیدت مندوں کی خاصی تعداد ہے۔ وہ بہترین صلاحیتوں والے ایکٹر ہیں اور ان کی فلمیں لوگ بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے کئی بار یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ سیاست میں آئیں گے۔ انھوں نے ’’رجنی مکل مندرم‘‘ نامی ایک پارٹی بھی بنائی۔ پہلے بی جے پی نے یہ کوشش کی تھی کہ وہ پارٹی جوائن کر لیں۔ لیکن انھوں نے بی جے پی جوائن کرنے سے احتراض کیا۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ انھوں نے سیاست میں نہ آنے کا اعلان کر دیا۔ جب بی جے پی نے دیکھا کہ وہ انھیں پارٹی میں شامل کرانے میں ناکام ہو گئی ہے تو ان کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دینے کا اعلان کر دیا۔

اس کا بظاہر واحد مقصد تمل ناڈو کے عوام کی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔ جن پانچ ریاستوں میں الیکشن ہو رہے ہیں ان میں تمل ناڈو بھی شامل ہے۔ وہ برسراقتدار جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ تمل ناڈو میں ان کے لاکھوں چاہنے والے ہیں جو انھیں بھگوان کی مانند پوجتے ہیں۔ لوگوں نے ان کے مندر بنا رکھے ہیں۔ جب انھیں اتنا بڑا ایوارڈ دیا جائے گا تو فطری طور پر موجودہ حکومت کے تئیں ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا ہوگا اور اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ انتخابی مہم ختم ہونے کے فوراً بعد انھیں ایوارڈ پیش کیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران مودی حکومت نے آسام کے لوک گائک بھوپن ہزاریکا کو بھارت رتن دینے کا اعلان کیا تھا۔ بی جے پی آسام میں زیادہ سے زیادہ پارلیمانی نشستیں جیتنا چاہتی تھی۔ شمال مشرق کی آٹھ ریاستوں میں سب سے زیادہ پارلیمانی نشستیں وہیں ہیں۔ اس اعلان کو سیاسی اعلان سمجھا گیا تھا اور اس بات کو محسوس کرتے ہوئے ہزاریکا کے بیٹے تیج ہزاریکا نے شروع میں ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ نہ صرف دوسری سیاسی پارٹیوں میں بلکہ بی جے پی کے اندر بھی یہ رائے بنی تھی کہ یہ اعلان انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس وقت مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھی ایک اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے بنگالی فلم ساز ستیہ جیت رے کے نام پر فروری میں ایک نیشنل فلم ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مغربی بنگال کے ووٹروں میں اپنے لیے ایک اچھی جگہ بنائی جائے۔ گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اس ایوارڈ پالیٹکس کا ایک نمونہ پیش کیا۔ انھوں نے وہاں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نوبیل امن ایوارڈ کے طرز پر ایک ٹیگور ایوارڈ اور آسکر کے طرز پر ستیہ جیت رے ایوارڈ دیں گے تاکہ بنگال کے ان دونوں سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔

2019 کے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر بھوپن ہزاریکا کو ایوارڈ کے ساتھ ساتھ سابق صدر پرنب مکھرجی کو بھارت رتن دیا گیا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ان دونوں ایوارڈوں کے اعلان سے بی جے پی کو کتنا فائدہ پہنچا لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ آسام اور مغربی بنگال میں بی جے پی کو خاصی کامیابی حاصل ہوئی۔

پدم ایوارڈ وں کا بھی الیکشن سے کچھ نہ کچھ تعلق نکل آیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے 2019 میں 94 پدم شری ایوارڈز دیئے جبکہ اس سے پہلے کے چار سالوں میں ان ایوارڈوں کی اوسط تعداد 76 رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران ایک فلم آئی تھی ’’اڑی: دی سرجیکل اسرائیک‘‘۔ پدم ایوارڈوں کی تقسیم کے موقع پر وکی کوشل کا بھی نام لیا گیا، جنھیں مذکورہ فلم کے لیے نیشنل ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس فلم میں کشمیر میں ہندوستانی افواج کی کارکردگی کی بھرپور ستائش کی گئی ہے۔ بی جے پی نے جنرل الیکشن میں فوج کا کارڈ بھرپور انداز میں کھیلا تھا۔

ایسے میں جبکہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا چار ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج چل رہا ہے بہترین اداکارہ کے زمرے میں کنگنا رناوت کو دیئے جانے والے ایوارڈ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کنگنا ٹوئٹر پر ان قوانین کے حوالے سے زبردست انداز میں مودی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔

کیرالہ میں تو ابھی کسی ایوارڈ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن بی جے پی نے انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے میٹرو مین ای سری دھرن کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ممکنہ امیدوار ہوں گے۔

اس طرح اگر ہم جائزہ لیں تو اور بھی ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی جب بی جے پی نے محض الیکشن جیتنے کے لیے ہی ایوارڈوں کا اعلان کیا یا ایسے اقدامات کیے جن سے رائے دہندگان کو متاثر کیا جا سکے۔ بی جے پی اور خاص طور پر وزیر اعظم کا یہ دعویٰ کہ وہ الیکشن کو ذہن میں رکھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتے بارہا بے نقاب ہوا ہے۔ اب ایک بار پھر بی جے پی کی ایوارڈ پالیٹکس بے نقاب ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Apr 2021, 8:11 PM