بہار میں بدلتا انتخابی منظرنامہ: مودی کی بدحواسی کا منہ بولتا ثبوت ہے... اعظم شہاب

مودی جی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ تیجسوی کی آندھی کو روکنا ان کے لیے ناممکن ہے۔ کیونکہ تیجسوی اور راہل گاندھی نے بہار کے لوگوں میں جو بیداری اور جوش و ولولہ پیدا کیا ہے وہ ایک سونامی بن چکی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

بہار کا انتخابی منظر نامہ اس تیزی سے بدلے گا یہ کل یگ کے چانکیہ شاہ جی اور گرو درونا چاریہ مودی جی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔ اس تبدیلی کا اندازہ لگانے کے لیے وزیر اعظم کے بدلتے ہوئے لب و لہجے اور موضوعات پر ایک غائر نظر ڈال لینا کافی ہے۔ اس سے پہلے کہ مودی جی کے موضوعات کا جائزہ لیا جائے یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ اس بار وہ پچھلے انتخاب کی بہ نسبت ایک تہائی محنت کر رہے ہیں۔ 2015 میں انہوں جملہ دس دن انتخابی مہم کی نظر کیے تھے اور 31 جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ اس بار وہ صرف 4 دن اس کام پر صرف کر کے کل 12 مقامات پر خطاب فرما رہے ہیں۔ اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول تو کورونا کا بہانہ ہے، لیکن اگر ایک مرتبہ گھر سے نکل ہی گئے تو کیا 4 دن اور کیا 9 دن کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ویسے بھی کسی کو ان کے قریب پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے اس بار جے ڈی یو کا ساتھ ہے لیکن فی الحال نہ تو مودی کو نتیش پر بھروسہ ہے اور نہ ہی نتیش کو مودی پر اعتماد ہے۔ اس لیے تیسری وجہ یعنی کہ عمر سب سے زیادہ اہم ہے۔ پانچ سال بعد مودی 70 سال کے اور نتیش 69 سال کے ہوگئے ہیں۔ یہ عمر آرام کرنے کی ہوتی ہے، لیکن اقتدار کی ہوس میں دونوں بگ ٹٹ دوڑ رہے ہیں، لیکن آخر کتنا بھاگیں؟ عمر کا تقاضہ ہے کہ جلد ہی تھک کر بیٹھ جاتے ہیں۔

اب آئیے دیکھیں اس بار وزیر اعظم کا لب و لہجہ کیسے بدلا۔ ان کا پہلا دورہ 23 اکتوبر کو تھا۔ اس وقت وہ ہوا میں پرواز کررہے تھے۔ اپنے تینوں خطابات میں انہوں نے نہ تو بہار کو یاد کیا اور نہ عوام کے بنیادی مسائل کو چھیڑا۔ سب سے پہلے انہوں نے حسبِ عادت قوم پرستی کا راگ چھیڑ دیا اس لیے کہ قوم پرستی کے نام پر اپنے ہر مخالف کو قوم دشمن قرار دے کر قابلِ گردن زدنی ٹھہرا دینا بی جے پی کا بہت پرانا آزمودہ نسخہ ہے۔ اس کے ذریعہ فرقہ پرستانہ جذبات کو بہ آسانی بھڑکایا جاسکتا ہے۔ سارے مسلمانوں کو اینٹی نیشنل بناکر ان سے ہندووں کو ڈرانا اور خود کو ان کا مسیحا بتا کر ان کا جذباتی استحصال برسوں سے جاری ہے اور اسی کی مدد سے بی جے پی ایوان پارلیمان میں 303 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کو تقویت دینے کے لیے مودی جی نے پلوامہ کی یاد دلائی جس میں نیم فوجی دستوں کے تحفظ میں مودی سرکار بری طرح ناکام ہوگئی تھی۔ انہوں نے گلوان گھاٹی کا ذکر کیا جہاں 1200 مربع کلومیٹر زمین کو یہ سرکار چین کے ہاتھوں گنوا چکی ہے۔

مودی نے کشمیر کی دفعہ 370 کے خاتمہ کا ذکر کرکے فرمایا کہ یہ لوگ اقتدار حاصل کرنے کے لیے دفعہ 370 پھر سے لاگو کردیں گے۔ یہ کس قدر احمقانہ بات ہے کہ بہار کے اندر اگرمہاگٹھ بندھن کی سرکار بن گئی تو وہ کشمیر میں 370 کی دفعہ دوبارہ لاگو کرے گی؟ ایسا لگتا ہے کہ مودی جی نے بہار کے عوام کو ایک دم ہی احمق سمجھ لیا ہے۔ کشمیر میں اگر دفعہ 370 دوبارہ بحال بھی ہوجائے تو اس سے بھلا بہاری عوام کو کیا فرق پڑے گا؟ جب وہ دفعہ بحال تھی تب بھی ان کے مسائل وہی تھے اور جب ختم ہوگئی تب بھی اس میں کوئی فرق نہیں واقع ہوا۔ خیر اپنے مودی جی اپنے پہلے دورے میں ایران توران کی ہانک کر لوٹ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ایجنسیوں سے پتہ لگایا ہوگا کہ عوام کو ان میں کتنی دلچسپی ہے اور وہ کس قدر متاثر ہوئے تو پتہ چلا ہوگا کہ سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ اس لیے 28 اکتوبر کے اپنے دوسرے دورے میں انہوں نے اپنا لب و لہجہ بدل دیا۔ اس میں سے ایک جگہ تو انہوں سیتا کی سسرال اور رام مندر کا ذکر کیا لیکن یہ کہہ کر نتیش کمار کا مذاق اڑا دیا کہ جو لوگ مندر تعمیر کی تاریخ پوچھتے تھے وہ تالی بجا رہے ہیں۔

اپنے دوسرے دورے میں مودی جی کو بہار کا خیال آیا اور انہوں نے لالو پرساد کے جنگل راج کو یاد کیا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ مودی جی 15 سال پرانے جنگل راج کا ذکر کر رہے تھے لیکن اس کے تین دن قبل جس جنگل راج کا مظاہرہ مونگیر میں کیا گیا اس کو بھول گئے تھے۔ اس کو کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا۔ ویسے آج کل بہار میں بی جے پی چراغ پاسوان کے اندھیرے تلے ٹامک ٹوئیاں کر رہی ہے۔ مونگیر میں کالی کے بھکتوں پر ان کی سرکار نے پہلے لاٹھیاں اور پھر گولی چلائیں، لیکن مودی جی نے اس پر اف تک نہیں کیا۔ ویسے مودی جی یہ بولنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر یوراج یعنی تیجسوی کا جنگل راج آگیا تو سرکاری ملازمت تو دور نجی نوکری بھی چلی جائے گی۔ لیکن ایسا کیوں ہوگا؟ اس کی وجہ انہوں نے نہیں بتائی۔ خیر بلاوجہ کی باتیں کرنا ان کی عادت ثانیہ ہے اس لیے ایک بے سر پیر کا جملہ چھوڑ کر وہ رفو چکر ہوگئے۔ آج یعنی یکم نومبر کو مودی جی اپنے تیسرے دورے پر ہیں۔ اب وہ کشمیر اور رام مندر کو بھول کر تیجسوی اور راہل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ تیجسوی کی آندھی کو روکنا ان کے لیے ناممکن ہے۔ انہوں نے بہار کے نوجوانوں میں جو بیداری اور جوش و ولولہ پیدا کیا ہے وہ ایک سونامی بن چکا ہے اور اس میں بی جے پی کا کمل بکھرنے لگا ہے۔ اس لیے جہاں پہلے دورے میں تیجسوی کو پوری طرح نظرانداز کردیا گیا، تھا اب ساری توجہ انہیں کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ بہار کے انتخابی منظر نامہ میں آنے والی یہ تبدیلی مودی جی کی بدحواسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Published: 1 Nov 2020, 9:40 PM
next