بہار: این ڈی اے کو منھ کی کھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے... اعظم شہاب

بہار میں تیجسوی یادو انتخابی ایجنڈا کے ساتھ اقدامی سیاست بھی کررہے ہیں۔ اس کے برعکس نتیش، سشیل مودی، پردھان سیوک اور جے پی نڈا تک سب تیجسوی کے طے کردہ ایجنڈے کے مطابق دفاعی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

اسے قدرت کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ اپنی ہی ریاست مہاراشٹر میں پارٹی کی مٹی پلید کروانے والے سابق وزیراعلیٰ دیوندرفڑنویس کو بی جے پی نے بہار میں کمل کھلانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ابھی بیچارے اپنے ناتواں کندھوں پر اس کا بار اٹھا بھی نہیں پائے تھے کہ کورونا نے انہیں قرنطینہ میں پہنچا دیا۔ انہوں نے سوچا کہ شاید قرنطینہ میں جانا انہیں بہار میں بی جے پی کی ہزیمت کے الزام سے بچالے گا، مگر ان کے ہی اپنے ایک پرانے ساتھی ایکناتھ کھڑسے، جنہوں نے 40 سالوں تک پارٹی کو اپنے خون پسینے سے سینچا تھا، اپنے کالر سے کمل کا پھول نوچ کر کلائی میں این سی پی کی گھڑی باندھ لی۔

فڑنویس اس صدمے کو بھی برداشت کرلیتے مگر معلوم یہ ہوا کہ بی جے پی کو چھوڑنے کا تمام تر الزام کھڑسے نے ان کے سرمنڈھ دیا ہے۔ اب بیچارے فڑنویس نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ انہیں اگر ایک جانب بہار میں بی جے پی کی نیا پار لگوانا ہے تو دوسری جانب مہاراشٹر میں حکومت کو غیرمستحکم کرنا ہے، لیکن دونوں ہی جگہ کی ہوا ان کے خلاف ہوچکی ہے۔ اس لیے اب انہوں نے بھی پردھان سیوک کے ٹرمپ کارڈ پر اعتماد کا اظہار کرنا ہی مناسب سمجھا ہے۔

بہار میں پردھان سیوک کا ٹرمپ کارڈ کتنا چلے گا؟ اس پر بات کرنے سے پہلے اگر ہم اس ٹرمپ کارڈ کی نوعیت پر ذرا غور کرلیں تو صورت حال ٹھیک ٹھاک طریقے سے سامنے آجائے گی۔ بی جے پی کے لوگ اس ٹرمپ کارڈ کو مودی کی مقبولیت قرار دیتے ہیں یعنی کہ مودی کی مقبولیت ہی وہ ٹرمپ کارڈ ہے جس کی بناء پر بہار کا میدان فتح کیا جائے گا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ بی جی پی کے اس ٹرمپ کارڈ میں دن بہ دن کمی واقع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ گوکہ پارلیمانی الیکشن میں پلوامہ، پٹھان کوٹ، سرجیکل اسٹرائیک، ہندو-مسلم اور فوج کے نام پر ووٹ مانگتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی گئی تھی، مگر ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں یہ ہتھکنڈے بری طرح ناکام ہوگئے۔ اس کا مشاہدہ چھتیس گڑھ سے لے کر ہریانہ تک اور راجستھان سے لے کر جھارکھنڈ تک کیا جاسکتا ہے کہ جہاں پردھان سیوک اپنی تمام توانائی اور ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود بی جے پی کو اکثریت دلانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

ہریانہ میں بی جے پی حکومت سازی میں ضرور کامیاب رہی، مگر اس کا سہرا مودی کی مقبولیت کو نہیں دیا جاسکتا۔ اگر وہاں دشینت چوٹالا اپنے والد کو جیل سے باہر نکالنے اور خود نائب وزیراعلیٰ بننے کی سودے بازی نہیں کرتے تو 40 سیٹوں پر کامیابی کے باوجود بی جے پی کو حکومت بنانے میں کئی بار کھانسی آچکی ہوتی۔ بہار سے متصل ریاست جھارکھنڈ نے تو پورے ملک کو بتا دیا ہے کہ مودی کی مقبولیت کا ٹرمپ کارڈ بھلے ہی پارلیمانی الیکشن میں چل جائے، لیکن اسمبلی الیکشن میں اس کی حیثیت ایک پھسپھسے بم سے زیادہ نہیں ہے۔

یہاں ایک بات اور ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ پورے شمال مشرقی ہندوستان میں بہار ہی وہ واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی کبھی اکیلے دم پر حکومت نہیں بنا سکی۔ ابھی بھی اگر وہاں بی جے پی کی حکومت ہے تو وہ نتیش کمار کے دم پر ہے۔ اور وہ بھی نتیش کو مہاگٹھ بندھن سے بغاوت کروا کر بنائی ہوئی حکومت ہے۔ یعنی کہ بہار میں بی جے پی کی اتنی بھی پوزیشن نہیں ہے کہ وہ نظریاتی طور پر براہ راست کسی پارٹی سے اتحاد کرکے حکومت بنالے۔

مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد معلوم نہیں سوشاسن بابو کی وہ کون سی کمزوری بی جے پی کے ہاتھ لگ گئی کہ اس نے انہیں آرجے ڈی وکانگریس سے علیحدہ ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ مودی کی مقبولیت کا نتیجہ تو ہرگز نہیں تھا بلکہ مرکز کے زیرکنٹرول ان ایجنسیوں کے استعمال کا نتیجہ تھا جس کی سہارے سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو قتل ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایجنسیوں کا یہ استعمال کیا ہمیشہ کامیاب ہی رہے گا؟ کیونکہ مہاراشٹر کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں بی جے پی نے اجیت پورا کے ساتھ راتوں رات حکومت تو بنالی، مگر 48 گھنٹے کے بعد ہی بہار میں کمل کھلانے کی ذمہ داری والے صاحب منہ چھپاتے ہوئے نظر آئے تھے۔

بہار کے انتخابی نتائج کیا ہوں گے؟ اس کے بارے میں قبل از وقت کوئی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کسی پیشین گوئی پر یقین کیا جاسکتا ہے، لیکن وہاں زمینی سطح پر جو کچھ نظر آرہا ہے اس کی بنیاد پر یہ قیاس آرائی ضرور کی جاسکتی ہے کہ ہمیشہ الیکشن موڈ میں رہنے والے مودی جی کی خودساختہ مقبولیت کے باوجود این ڈی اے کے لیے راہ آسان نہیں ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی کی بی جے پی کو حاصل درپردہ حمایت سے اگر ایل جے پی کے ووٹر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں تو وہیں این ڈی اے کا بھی آپسی اختلاف کھل کر سامنے آگیا ہے۔ این ڈی اے کی دونوں بڑی پارٹیاں جے ڈی یو اور بی جے پی کو ایک دوسرے پر اعتماد تک نہیں رہ گیا ہے جس کی تازہ مثال بی جے پی کے انتخابی پوسٹر سے نتیش کمار کا فوٹو غائب ہونا ہے۔ دوسری جانب پورے بہار میں اس وقت بس ایک ہی ٹرمپ کارڈ چلتا ہوا نظر آرہا ہے اور وہ ہے تیجسوی یادو کا۔

تیجسوی یادو کی انتخابی ریلیوں میں امڈتی بھیڑ، نتیش کمار کی ریلیوں میں لالو یادو کے نام کے لگنے والے نعرے یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ بہار کا انتخابی نتیجہ کیا ہوگا۔ سچائی ہے کہ تیجسوی یادو آج بہار میں انتخابی ایجنڈا بھی طے کر رہے ہیں اور اقدامی سیاست بھی کر رہے ہیں۔ بقیہ نتیش سے لے کر سشیل مودی تک اور پردھان سیوک سے لے کر جے پی نڈا تک سب تیجسوی کے طے کردہ ایجنڈے کے مطابق دفاعی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔

next