قصہ ای وی ایم کی چوری کا!... اعظم شہاب

اگر ای وی ایم کا معاملہ بنگال میں پیش آتا اور وہ کسی ترنمول ایم ایل اے کی گاڑی میں ہوتی تو اس کو ترنمول کی شکست قرار دے دیا جاتا اور اس بہانے بعید نہیں کہ ممتا کی سرکار ہٹا کر گورنر راج لگا دیا جاتا۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

اعظم شہاب

مکیش امبانی کے گھر انٹیلیا کے پاس ایک گاڑی میں جلیٹن کی کچھ چھڑیاں ملیں۔ وہ ایسا معمولی دھماکہ خیز مادہ تھا کہ جس کا استعمال سڑک یا سرنگ وغیرہ کی تعمیر میں ہوتا ہے۔ اس لیے اگر پھٹ بھی جاتا تو بھی امبانی سیٹھ کا بال بیکا نہ ہوتا۔ ویسے گاڑی میں دھماکے کی خاطر لازمی ڈیٹونیٹر بھی نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو رکھنے والے کا ارادہ ڈرانا تو تھا مگر مارنا نہیں تھا۔ اس معاملے میں سچن وازے نامی بدنامِ زمانہ انکاؤنٹر اسپیشلیسٹ کو سب سے پہلے اس لیے گرفتار کیا گیا کہ گاڑی اس کے استعمال میں تھی۔ اس کے باوجود سچن وازے کو بی جے پی نے پہلے معطل اور پھر برخواست کرایا۔ اس کے بعد تفتیش کے لیے دہلی سے قومی تفتیشی ایجنسی کو روانہ کیا گیا۔ آگے چل کر ریاستی وزیر داخلہ پر نشانہ سادھا گیا اور بالآخر ادھو ٹھاکرے کی حکومت برخواست کرکے گورنر راج نافذ کرنے اور مناسب وقت میں انتخاب کروانے کی سازش ہونے لگی۔

اب آئیے آسام کے ضلع کریم گنج چلیں، جہاں ایک گاڑی کے اندر ای وی ایم مشین مل گئی۔ اس کے بعد وہاں کے رائے دہندگان کو معلوم ہوا کہ وہ تو بی جے پی امیدوار اور رکن اسمبلی کرشی نیندو پال کی گاڑی ہے جو انہوں نے اپنی بیوی کے نام رجسٹر کرا رکھی ہے۔ بی جے پی امیدوار کی کار سے ای وی ایم کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگ پتھرکنڈی میں جمع ہوگئے۔ علاقے میں تناؤ پیدا ہوگیا اور تشدد پھوٹ پڑا۔ بی جے پی والے چونکہ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے اس لیے کانگریس اور اے آئی ڈی یو ایف کے کارکنوں نے انتخابات میں استعمال ہونے والی ای وی ایم مشینوں کو اسٹرانگ روم کی طرف لے جاتے دیکھنے پر ہنگامہ برپا کر دیا جس کے بعد حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس کو ہوا میں فائرنگ کرنی پڑی۔

اس معاملے میں آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکرٹیک فرنٹ (اے ائی ڈی یو ایف) کے سربراہ اور رکن پارلیمان بدرالدین اجمل نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے تمام حربوں میں ناکام ہوگئی ہے اور اب اس کے پاس ای وی ایم چوری کا سہارا ہی باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ”پولرائزیشن؟ ناکام، ووٹوں کی خریداری؟ ناکام، امیدواروں کی خریداری اور جملہ بازی ناکام؟ دوہرا چیف منسٹر ناکام؟ سی اے اے پر دوہری بات ناکام؟اب شکست خوردہ بی جے پی کا آخری سہارا ’’ای وی ایم مشینوں کی چوری“ ہے۔ مولانا بدرالدین اجمل نے اسے ”جمہوریت کا قتل“ قرار دے دیا۔ آسام میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار نے جمہوریت کو کچل دیا۔ یہ ہیرین من سکھ کی مانند کیا جانے والا قتل تھا جس کے لیے سچن وازے جیل میں ہے اور کرشی نیندو پال آزاد گھوم رہا ہے۔

جب وزیر داخلہ امت شاہ سے استفسار کیا گیا تو ان کا جواب تھا مجھے اس بابت معلومات نہیں ہے، میں کیرالہ میں تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کیرالہ ٹمبکٹو سے دور ہے کیونکہ اس کی اطلاع تو میڈیا نے وہاں کے رہنے والے قبائلی لوگوں تک بھی پہنچا دی ہے۔ اس کے بعد وہ بولے میں رات کو فون کروں گا اور دو دن بعد وہاں جاؤں گا۔ سوال یہ ہے کہ کیوں جاؤں گا؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس طرح کا معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے اگر وزیر داخلہ نہیں تو کون جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بابت الیکشن کمیشن اپنا کام کرے گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ خود ان کی جماعت نے ایسے امیدوار کے ساتھ کیا معاملہ کیا جو ای وی ایم اپنی گاڑی میں رکھ کر اسٹرانگ روم لے جا رہا تھا۔ اس طرح کی صورتحال کے بعد تو ’سیتا‘ کو بھی اگنی پریکشا سے گزرنا پڑا تھا۔ اب اس ای وی ایم کی اگنی پریکشا کیسے ہوگی اور یہ کیسے پتہ لگایا جائے کہ وہ اب پوتر ہے یا نہیں؟

اس سنگین معاملے میں بی جے پی کے وفادار ضلع انتظامیہ نے کہا کہ ان کی گاڑی خراب ہوگئی تھی تو انہوں نے ایک نجی گاڑی سے مدد مانگی اور اتفا ق سے وہ بی جے پی رکن اسمبلی کی گاڑی نکل گئی۔ ایسا حسن اتفاق تو سی گریڈ فلموں میں بھی نہیں ہوتا۔ اس پر جب مقامی لوگوں نے گاڑی کی توڑ پھوڑ کردی تو ڈر کر انتخابی عملہ وہاں سے ای وی مشینوں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد کانگریس کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور انتخابی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی کے معاملے کی چھان بین کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے رہنما اشونی کمار نے الیکشن سے متعلق رہنما خطوط کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مثلاً ہمیشہ ای وی ایم مشین بی جے پی امیدواروں یا ان کے اتحادیوں کی گاڑیوں میں ہی کیوں ملتی ہے؟

آسام کانگریس کے صدر رپن بورا نے ای وی ایم ملنے پر الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد پری سائڈنگ افسر نے راتا باری سیٹ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ رائے دہندگی کے احکامات جاری کرکے تین اہلکاروں کو برطرف کر دیا، نیز یہ صفائی پیش کی کہ جو ای وی ایم ملی ہیں وہ جوں کے توں ہیں، اگر ایسا ہے تو بوتھ نمبر40 راتا باری (ایس سی) میں دوبارہ الیکشن کرانے کی کیا ضرورت؟ یہی معاملہ اگر مغربی بنگال میں پیش آتا اور وہ کسی ٹی ایم سی ایم ایل اے کی گاڑی میں ہوتی تو اس کو ٹی ایم سی کی شکست قرار دے دیا جاتا اور اس بہانے سے بعید نہیں کہ ممتا کی سرکار ہٹا کر گورنر راج لگا دیا جاتا۔ لیکن جب اپنے پر آئی تو صرف ایک بوتھ پر دوبارہ الیکشن پر اکتفاء کرلیا گیا۔ اس کو کہتے ہیں بی جے پی کی بوکھلاہٹ اور یہ اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب انتخاب میں ناکامی صاف نظر آرہی ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔