آئے نہیں تو گئے کیسے؟... اعظم شہاب

پردھان سیوک نے کہا تھا کہ کوئی ہماری سرحدوں میں داخل نہیں ہوا اورراج ناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ چینی فوج واپس جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی آیا نہیں تو واپس کہاں سے اور کیوں جارہے ہیں؟

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

قارئین کو پردھان سیوک کا وہ تاریخی بیان یاد تو ہوگا ہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری سرحدوں میں نہ ہی کوئی گھسا ہے اور نہ ہی ہماری کوئی پوسٹ کسی دوسر ے کے قبضے میں ہے۔ پردھان سیوک نے یہ بیان 19 جون 2020 کو اس وقت دیا تھا جب لداخ میں ہمارے 20 جوانوں کی شہادت کی خبر پر پورا ملک شدید غم وغصے میں تھا۔ پردھان سیوک نے اس موقع پر ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی گوکہ اس میں صرف دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ ہی شریک ہوئے تھے۔ کورونا کی وجہ سے وہ میٹنگ آن لائن منعقد ہوئی تھی۔ میٹنگ کے بعد پردھان سیوک جی نے ٹی وی اسکرین پر آکر وہ مشہور بیان دیا تھا جس پر اسی وقت سے سوال اٹھنے شروع ہوگئے تھے۔ مگر چونکہ ہمارے قومی میڈیا کے پردے و صفحات پر اس طرح کے سوالات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی، اس لیے وہ سوالات سوشل میڈیا تک ہی محدود رہ گئے تھے۔ لیکن وہ بیان دیتے ہوئے پردھان سیوک کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں رہی ہوگی کہ ایک وقت ایسا بھی آجائے گا جب ان کی ہی کابینہ کے، ان کے ہی وزیردفاع اسی پارلیمنٹ میں جہاں پہلی بار داخل ہوتے ہوئے وہ سجدہ ریز ہوگئے تھے، ان کے اس تاریخی بیان کو غلط ثابت کر دیں گے۔

اب جبکہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ ہندوستانی و چینی افواج کے کور کمانڈر کے درمیان ہونے والی بات چیت کامیاب رہی۔ لداخ میں فنگر8 اور فنگر4 کے درمیان جو تنازعہ تھا وہ حل ہوگیا ہے۔ چینی فوج فنگر 8 کے مشرقی کنارے پرجا رہی ہے اور ہماری فوج فنگر 3 پر رہے گی اور اس کامیابی کے ثبوت کے طور پر میڈیا پر کچھ ٹینکوں کی ویڈیوز کو بھی مودی سرکار کی کامیابی کے دعوے سے پیش کیا جا رہا ہے، تو پھر یہ سوال اٹھنا لازمی ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی ہماری سرحدوں میں گھسا نہیں تھا اور نہ ہی ہماری کوئی پوسٹ کسی دوسرے کے قبضے میں تھی تو پھر یہ چینی فوج اپنے ٹینکوں کے ساتھ واپس کہاں سے جا رہی ہے اور ہماری فوج جو لداخ میں فنگر 8 تک پٹرولنگ کرتی تھی اور وہ پیچھے ہٹ کر فنگر 3 تک کیوں آگئی ہے؟ پارلیمنٹ میں وزیردفاع کے بیان کو اگر سچ مانا جائے تو پھر مودی جی کے گزشتہ سال جون میں دیئے گئے بیان کو غلط ماننا پڑے گا اور اگر مودی جی کے بیان کو سچ مانا جائے تو پھر راج ناتھ سنگھ کا بیان غلط ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اگر چینی فوج واپس جا رہی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ آئی ضرور ہوگی اور اگر آئی نہیں تھی تو پھر واپس کہاں سے اور کیوں جا رہی ہے؟


تو پھر کیا مودی جی نے غلط بیانی سے کام لیا تھا یا راج ناتھ سنگھ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں؟ تو کیا اس کا جواب اس حقیقی صورت حال میں پوشیدہ ہے جو فی الوقت لداخ میں وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ چینی فوج جو ایل اے سی کے پار کرکے ہندوستان کے 21 کلومیٹر اندر تک داخل ہوگئی تھی وہ اب واپس اس جگہ چلی گئی ہے جہاں وہ پہلے تھی یعنی کہ فنگر 8 کے مشرقی کنارے پر۔ اور ہندوستانی فوج جو پہلے فنگر 8 تک گشت کیا کرتی تھی اور جس کا بیس فنگر 4 پر تھا، وہ اب فنگر 3 پر میجر دھیان سنگھ تھاپا مستقل بیس پر آگئی ہے۔ اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ چین تو اپنے پرانے علاقے سے پیچھے نہیں ہٹا، البتہ ہندوستانی فوج اپنی سرزمین چھوڑ کر تقریباً کئی کلومیٹر اندر ضرور سمٹ آئی ہے اور اس طرح فنگر 8 سے فنگر3 تک کا علاقہ ایک ایسا بفرزون بن گیا ہے جو نہ تو چین کے پاس ہوگا اور نہ ہی ہندوستان کے پاس۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ بفرزون ہندوستان کے حصے والی سرزمین پر بن گیا ہے۔ اس صورت حال میں راج ناتھ سنگھ کے اس بیان کو کس طرح سچ تسلیم کیا جائے کہ دونوں ملکوں کے کور کمانڈروں کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میں بھارت کو کامیابی ملی ہے۔ کامیابی تو اس صورت میں مل سکتی تھی کہ جب ہندوستانی افواج چین کے کچھ علاقوں کو ہندوستان کی سرزمین میں ملا لیتی، یا کم ازکم اپریل 2020 سے پہلے کی پوزیشن ہی برقرار رہتی۔ مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹا نظر آتا ہے۔ چینی فوج اپنی پرانی جگہ واپس تو چلی گئی مگر ہماری فوج کو اپنی سرزمین کو چھوڑنا پڑگیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری فوج اتنی کمزور ہے کہ اسے اپنا فنگر 4 کا پرانا بیس چھوڑ کر پیچھے ہٹنا پڑا؟ جی نہیں۔ ہندوستانی فوج میں ہرطرح کے حالات اور ہرطرح کے چیلنجس کا سامنا کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ جس طرح مجھے اپنی فوج پر فخر ہے اسی طرح ہر ہندوستانی کو بھی ہے۔ تو پھر کیا یہ کہا جائے کہ اگر ہماری اس بہادر افواج کے پیروں میں حکومت کی نااہلی کی زنجیر پڑجائے تو پھر ایسے ہی کچھ نتائج سامنے آتے ہیں جو لداخ میں سامنے آرہے ہیں۔ جس طرح فنگر4 سے فنگر3 کی سرزمین کو بفرزون میں تبدیل کردیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر راہل گاندھی کا یہ بیان کافی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کہ ہمارے پردھان سیوک بزدل اور کائر ہیں۔ یہ بزدلی اور کاہلی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمارا وہ پردھان سیوک جو اقتدار میں آنے سے قبل چین کو لال لال آنکھیں دکھانے کی بات کرتا تھا وہ جب چین جاتا ہے تو چینی صدر اور اپنے درمیان روحانی رشتے کی گواہی دیتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس رشتے کی معنویت دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پردھان سیوک جی لداخ میں چین وہندوستان کے درمیان کے تنازعے کے ضمن میں کبھی چین کا نام تک نہیں لے سکے اور جب ہمارے 20 فوجی شہید ہوگئے تو ان کی شہادت کو یہ کہہ کر توہین کی کہ ہماری سرحدوں میں کوئی داخل نہیں ہوا۔ خیر! ہم حکومت کے ہر دعوے پر یقین رکھتے ہیں، مگر بصد احترام ہم یہ دریافت کرسکتے ہیں کہ پردھان سیوک جی! جب ہماری سرحدوں میں کوئی داخل نہیں ہوا تو پھر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے دعوے کے مطابق چینی فوج واپس کہاں سے جا رہی ہے؟

(مضمون میں کالم نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔