پاکستان: سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کا بہیمانہ قتل

اسلام آباد میں ایف-7 علاقہ کے ایک گھرمیں منگل کو نور کا قتل کیا گیا۔ پہلے کسی تیزدھارہتھیار سے حملہ کر کے اس کا قتل کیا گیا اوربعد میں اس کا سر قلم کردیا گیا۔

قتل کی علامتی تصویر، آئی اے این ایس
قتل کی علامتی تصویر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے ایک سابق سفارت کار کی 27 سالہ بیٹی کا یہاں تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ جیو نیوز نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت نور مقدم کی شکل میں کی گئی ہے، جو جنوبی کوریا اور قزاقستان میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے شوکت مقدم کی بیٹی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ شہر میں ایف-7 علاقہ کے ایک گھرمیں منگل کو نور کا قتل کیا گیا۔ پہلے کسی تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر کے اس کا قتل کیا گیا اوربعد میں اس کا سر قلم کردیا گیا۔ اس کے قتل کے ملزم ظہیر ظفر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وہ اسلام آباد میں ایک بڑی تعمیراتی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا بیٹا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ نور نے ظہیر کے ساتھ اپنا عشق ختم کرلیا تھا جس سے ناراض ہوکر اس نے نور کا قتل کردیا۔


پولیس نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور معاملے کی چھان بین کی جارہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ منشیات کا عادی اور ذہنی مریض تھا۔ قتل میں ملوث پانے کے الزام میں لڑکی کی سہیلی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تعزیت کی۔ ترجمان نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’ایک سینئر معاون اور پاکستان کے سابق سفیر کی بیٹی کے قتل سے شدید افسوس ہوا۔ سوگوار خاندان سے دلی تعزیت، اور مجھے امید ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیا جائے گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔