پی ایم مودی کو اپنا بھائی ماننے والی پاکستانی خاتون کا قتل!

پاکستان میں ہو رہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والی سماجی کارکن کریمہ بلوچ کی کناڈا میں موت ہو گئی ہے۔ اتوار سے لاپتہ بتائی جا رہی کریمہ کی لاش ٹورنٹو میں برآمد ہوئی۔

کریمہ بلوچ، تصویر آئی اے این ایس
کریمہ بلوچ، تصویر آئی اے این ایس
user

ونے کمار

پاکستان کے بلوچستان میں فوج کی بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والی خاتون سماجی کارکن کریمہ بلوچ کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی ہے۔ اتوار سے لاپتہ بتائی جا رہی کریمہ کی لاش ٹورنٹو میں ملی۔ کریمہ بلوچ کو 2016 میں دنیا کی سب سے بااثر 100 خواتین میں شامل کیا گیا تھا۔ وہ ایسی خاتون تھیں جنھوں نے پاکستان کے مظالم کی داستان اقوام متحدہ میں بھی بیان کی تھی۔

واضح رہے کہ 2016 میں ’رکشا بندھن‘ پر بلوچ طلبا آرگنائزیشن کی صدر کریمہ بلوچ نے پی ایم مودی کو اپنا بھائی بتاتے ہوئے ایک جذباتی پیغام جاری کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ سبھی بلوچ خواتین ان کی طرف امید کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے پی ایم مودی سے یہ بھی گزارش کی تھی کہ وہ بین الاقوامی فورم پر حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

بہرحال، کریمہ بلوچ کی موت کو لے کر طارق فتح نے پاکستان پر شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے پاکستان کے گندے ہاتھ ہیں۔ کئی لوگوں نے کریمہ کے قتل کا اندیشہ ظاہر کیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں فی الحال کوئی تفصیل حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next