سری لنکا میں عوام کی حالت انتہائی خستہ، ہری مرچ 700 روپے اور آلو 200 روپے کلو

خوردنی اشیاء کی لگاتار بڑھتی قیمتوں کے مدنظر سری لنکائی صدر گوٹابایا راجپکشے نے ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سبزیاں، تصویر آئی اے این ایس
سبزیاں، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

سری لنکا میں عوام مہنگائی سے بری طرح پریشان ہیں۔ سری لنکا معاشی طور پر بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اس درمیان وہاں سبزیوں اور دوسرے سامانوں کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ سری لنکا کے ایڈووکاٹا انسٹی ٹیوٹ نے مہنگائی کو لے کر ایک اعداد و شمار جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں ایک مہینے کے اندر 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ بتائی جا رہی ہے۔

ایڈووکاٹا انسٹی ٹیوٹ کا ’باتھ کری انڈیکیٹر‘ (بی سی آئی) سری لنکا میں خوردہ اشیاء کی مہنگائی کو لے کر اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ بی سی آئی نے بتایا ہے کہ نومبر 2021 سے دسمبر 2021 کے درمیان خوردنی اشیاء کی قیمتوں کی مہنگائی 15 فیصد بڑھی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ سری لنکا میں 100 گرام ہری مرچ کی قیمت جہاں 18 روپے تھی، وہیں اب یہ بڑھ کر 71 روپے ہو گئی ہے۔ یعنی ایک کلو ہری مرچ کی قیمت 710 روپے ہو گئی ہے۔ ایک ہی مہینے میں مرچ کی قیمت میں 287 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بینگن کی قیمت میں 51 فیصد، لال پیاز کی قیمت میں 40 فیصد اور بینس و ٹماٹر کی قیمتوں میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کو ایک کلو آلو کے لیے 200 روپے کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔ سری لنکا میں درآمد نہ ہو پانے کی وجہ سے دودھ پاؤڈر کی بھی کمی ہو گئی ہے۔


مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2019 کے بعد سے قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں اور دسمبر 2020 کے مقابلے میں قیمتوں میں 37 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار لوگوں کی اوسط فیملی، جنھوں نے دسمبر 2020 میں خوردنی اشیاء پر ہفتہ میں 1165 روپے خرچ کیے تھے، انھیں اب اتنے ہی سامان کے لیے 1593 روپے کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔

بڑھتی مہنگائی کے سبب عوام بے حد پریشان ہے اور لوگوں کو بھر پیٹ کھانا تک نصیب نہیں ہو رہا ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور انورُدّا پرانگما نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ سے بتایا کہ ان کی فیملی اب تین کی جگہ دو وقت کا کھانا ہی کھا پا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میرے یے گاڑی کا قرض ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ بجلی، پانی اور کھانے پینے کے خرچ کے بعد کچھ بچتا نہیں ہے کہ گاڑی کا قرض ادا کر سکوں۔ میری فیملی تین بار کی جگہ دو بار ہی کھانا کھا پا رہی ہے۔‘‘


خوردنی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے مدنظر سری لنکائی صدر گوٹابایا راجپکشے نے ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے تحت فوج کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ یہ یقینی کرے کہ کھانے پینے کی چیزیں عام لوگوں کو اسی قیمت پر ملے جو حکومت نے طے کیے ہیں۔ سری لنکا کی بدحالی کے کئی اسباب ہیں جن میں کووڈ وبا، بڑھتا سرکاری خرچ اور ٹیکس میں جاری تخفیف شامل ہے۔ کووڈ نے سری لنکا کے سیاحتی کاروبار کو تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ سرکاری خزانہ خالی ہے اور سری لنکا پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔