طالبانی حکومت میں صحافیوں کی خیر نہیں، پرتشدد حملوں میں مزید ہوگا اضافہ!

کابل میں بدھ کے روز ایک اخبار کے پانچ صحافیوں کو طالبان نے ایک مظاہرہ کی رپورٹنگ کرنے کے سبب حراست میں لے لیا اور ان کی بری طرح پٹائی کی، زخمی حالت میں انھیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

رپورٹرس وِداؤٹ بارڈرس (آر ایس ایف) نے طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں کے خالف تشدد میں تیز اضافہ کو لے کر متنبہ کیا ہے۔ ٹولو نیوز نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں آر ایس ایف کے ذریعہ صحافیوں کے خلاف درجنوں پرتشدد معاملے درج کیے گئے ہیں۔ آر ایس ایف کے افغانستان ڈیسک کے چیف ریزا معینی نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 24 صحافیوں کو طالبان نے حراست میں لیا اور کئی گھنٹوں کے بعد رہا کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں آر ایس ایف نے افغانستان میں صحافیوں کے خلاف درجنوں پرتشدد معاملے درج کیے ہیں۔

بدھ کو قابل میں اتیلاٹروز اخبار نے کہا کہ اس کے پانچ صحافیوں کو طالبان نے ایک خاتون مظاہرہ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے حراست میں لیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ کے دوران حراست میں لیے گئے دو صحافیوں نے کہا کہ طالبان نے انھیں بری طرح پیٹا، جس کے بعد انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس درمیان مختلف حلقوں کے کچھ صحافیوں نے کہا کہ طالبان نے ان پر کئی طرح کی پابندی لگا دی ہے۔


بتایا جاتا ہے کہ طالبان نے صحافیوں کے الزامات کا اعتراف کیا، لیکن کہا کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انام اللہ سمانگانی نے کہا کہ ہمیں گزشتہ کچھ دنوں میں صحافیوں کے ساتھ ہوئے واقعات پر افسوس ہے۔ ہم ان کے چیلنجز کا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس درمیان ملک کے اندر اور باہر صحافیوں کی حمایت اور دفاع کرنے والے اداروں نے طالبانی حکومت میں افغانستان میں صحافیوں کی خطرناک صورت حال پر اپنی فکر ظاہر کی ہے اور سبھی فریق سے صحافیوں کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔