ایغور مسلمانوں کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی پر مشکل میں چین، بائڈن نے سزا سے متعلق بل پر کیا دستخط

بل کو گزشتہ ہفتہ اتفاق رائے سے سینیٹ نے پاس کیا تھا، یہ بل شنجیانگ سے مال کی درآمد پر پابندی لگاتا ہے، جب تک کہ شخص یا کمپنیاں یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ سامان بے بس مزدوروں سے نہیں بنائی گئی تھیں۔

امریکی صدر جو بائڈن
امریکی صدر جو بائڈن
user

قومی آوازبیورو

امریکی صدر جو بائڈن نے ایک بل پر دستخط کیا ہے جس کا مقصد شنجیانگ علاقہ میں ایغوروں سمیت نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے لیے چین کو سزا دینا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون کو گزشتہ ہفتہ اتفاق رائے سے سینیٹ نے پاس کیا تھا۔ یہ بل شنجیانگ سے مال کی درآمد پر پابندی لگاتا ہے، جب تک کہ شخص یا کمپنیاں یہ ظاہر نہیں کرتی ہیں کہ سامان بغیر مجبوری والے مزدوروں کے ذریعہ بنائے گئے تھے۔

شنجیانگ میں لاکھوں ایغوروں اور دیگر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مبینہ غلط روی کے لیے چین کو سزا دینے کے لیے ایغور جبراً مزدوری انسداد ایکٹ نامی قانون امریکہ کے ذریعہ نئی کوشش ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے چین پر ایغوروں کے خلاف نسل کشی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔


گزشتہ ہفتہ بائڈن انتظامیہ نے چین کے بایو ٹیکنالوجی سیکٹر کے ان عناصر کو بلیک لسٹ کر دیا جن کے بارے میں افسران نے کہا کہ وہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی میں شامل ہیں۔ جمعرات کو سینیٹر مارکو روبیا نے ایک بیان میں قانون کو ’چینی کمیونسٹ پارٹی کو غلام مزدوری کے استعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے امریکہ کے ذریعہ اب تک کی گئی سب سے اہم اور بااثر کارروائی‘ قرر دیا۔

روبیو نے کہا کہ یہ بیجنگ کے ساتھ ہمارے رشتوں کو بنیادی طور سے بدل دے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نئے قانون کو صحیح ڈھنگ سے نافذ کرنے اور ٹھیک سے نافذ کرنے کے لیے بائڈن انتظامیہ اور میرے معاونین کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔