چین میں امکان سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا کورونا، ایک دن میں کووڈ سے 36000 اموات کا اندیشہ

چین گزشتہ سال دسمبر میں اپنے زیرو کووڈ پابندیوں کو اچانک ہٹانے کے بعد وائرس کی ایک بڑی لہر کی زد میں آ گیا ہے، کچھ اہم شہروں کے تعلق سے اندازہ ہے کہ ان کی 70 سے 90 فیصد آبادی متاثر ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

ڈاٹا اینالیٹکس کمپنی ایئرفنٹی نے پیشین گوئی کی ہے کہ مون نیو ایئر کی چھٹیوں کے دوران چین میں ایک دن میں کووڈ-19 سے تقریباً 36000 اموات ہو سکتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ مون نیو ایئر تہوار 7 جنوری سے شروع ہوا اور چھٹیاں 21 جنوری سے شروع ہونے والی ہیں۔ ایئرفنٹی کے اینالیٹکس ڈائریکٹر ڈاکٹر میٹ لنلی کے مطابق ’’اب انفیکشن کی ایک بڑی اور طویل لہر دیکھ رہے ہیں۔‘‘ لنلی مزید کہتے ہیں ’’ہماری پیشین گوئی آئندہ عشرہ کے لیے چین کی ہیلتھ سروس سسٹم پر ایک اہم بوجھ کا اندازہ لگاتا ہے اور یہ امکان ہے کہ بھیڑ بھاڑ والے اسپتالوں اور دیکھ بھال کی کمی کے سبب کئی قابل علاج مریضوں کی موت ہو سکتی ہے۔‘‘

ہوبیئی اور ہینان جیسے کچھ علاقوں میں اسپتال کی صلاحیت سے چھ گنا زیادہ سخت دیکھ بھال بستروں کی طلب دیکھی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 ہزار کووڈ سے متعلق اموات چین نے اپنے موجودہ قہر کے پہلے پانچ ہفتوں کے دوران رپورٹ کی ہیں، جو دنیا میں اب تک دیکھی گئی سب سے بڑی تعداد ہے۔


اس درمیان ڈبلیو ایچ او ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریوسس نے ملک سے وائرس کے وجود میں آنے کے معاملے کو سمجھنے سے متعلق آگے کے عمل اور تعاون کو شیئر کرنے کے لیے کہا۔ واضح رہے کہ چین گزشتہ سال دسمبر میں اپنے زیرو کووڈ پابندیوں کو اچانک ہٹانے کے بعد وائرس کی ایک بڑی لہر کی زد میں آ گیا ہے۔ کچھ اہم شہروں کے تعلق سے اندازہ ہے کہ ان کی 70 سے 90 فیصد آبادی متاثر ہو گئی ہے۔

بہرحال، چینی افسران نے ڈبلیو ایچ او کو کئی موضوعات پر جانکاری فراہم کی ہے جس میں آؤٹ پیشنٹ کلینک، اسپتال میں داخل، ایمرجنسی علاج و ترجیحی دیکھ بھال کی ضرورت والے مریضوں اور کووڈ-19 انفیکشن سے متعلق اسپتال میں ہونے والی اموات شامل ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔