چین: ٹی وی پر عورتوں سے مشابہ مرد دکھائے جانے پر لگائی گئی پابندی

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے معاملات دیکھنے والے ادارہ این آر ٹی اے کی جانب سے تمام نشریاتی اداروں کو جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ عورتوں سے مشابہت رکھنے والے مرد حضرات کو اسکرین پر نہ دکھایا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بیجنگ: چینی حکومت نے ٹیلی ویژن (ٹی وی) پر عورتوں سے مشابہ مرد یا مخنث افراد سے ملتے جلتے انداز اپنانے والے مرد حضرات سمیت سیاسی و ثقافتی طنز کرنے والے مردوں کو دکھانے پر پابندی عائد کر دی۔ خبر رساں ادارہ ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے ’قومی بحالی شباب‘ پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے مذکورہ پابندیوں کا اعلان کیا۔ چینی صدر نے تعلیم، کاروبار، ثقافت اور مذہب جیسے معاملات پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکرین پر غیر مہذب مردوں کو دکھانے سے منفی اثرات پڑتے ہیں۔

’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے معاملات دیکھنے والے حکومتی ادارے ’نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن‘ (این آر ٹی اے) کی جانب سے تمام نشریاتی اداروں کو جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ عورتوں سے مشابہت رکھنے والے مرد حضرات کو اسکرین پر نہ دکھایا جائے۔ ہدایت نامے میں واضح طور پر مخنث افراد کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا لیکن بتایا گیا کہ ایسے مرد حضرات کو ٹی وی پر دکھانا بند کیا جائے، جن کی شکل و صورت صنف نازک سے ملتی جلتی ہو۔ ادارے کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں واضح طور پر ٹی وی چینلز کو کہا گیا کہ عریانیت کی تشہیر کرنے والی انٹرنیٹ و شوبز شخصیات کو دکھانے سے گریز کیا جائے۔


سرکاری ادارے نے ٹی وی چینلز کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے چینی ثقافت کو دکھائیں تاکہ قومی بحالی شباب تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اسی حوالے سے ’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چینی حکومت نے ان تمام مرد آرٹسٹ کو ٹی وی پر نہ دکھانے کی ہدایات جاری کی ہیں جو ثقافت و سیاست کو غلط انداز میں پیش کرنے سمیت خواتین یا مخنث افراد سے مشابہت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹی وی اینڈ ریڈیو کے ریگولیٹ ادارے نے نشریاتی اداروں کے جاری ہدایت نامے میں سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔ ادارے کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں زنانہ مشابہت رکھنے والے آرٹسٹ کو غیر صحت مند معاشرے کا باعث قرار دیا گیا۔


چینی حکومت کی جانب سے مذکورہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب کہ حال ہی میں حکومت نے بچوں کی آن لائن گیمنگ تک رسائی بھی محدود کی تھی۔ حکومت نے حال ہی میں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے ہفتے میں صرف تین گھنٹے تک آن لائن گیم کھیلنے کے احکامات جاری کیے تھے، جب کہ اسکول کے اوقات میں آن لائن گیم پر مکمل پابندی ہوگی۔ علاوہ ازیں حکومت نے عریانیت پھیلانے کے الزاام میں حال ہی میں مختلف چینی سوشل ویب سائٹس سے انٹرٹینمنٹ اداروں کے اکاؤنٹس بھی بند کردیے تھے۔ چینی حکام کا خیال ہے کہ مقامی مرد آرٹسٹ جنوبی کورین اور جاپانی آرٹسٹوں کی نقل کرتے ہوئے عورتوں سے مشابہ انداز اور فطرت اپناتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پھیلنے کے امکانات ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔