81 گاؤں کے کسان مظاہرین گرفتار، نریش ٹکیت نے کہا ’مودی-یوگی کو ووٹ دے کر بڑی غلطی کر دی‘

پولیس نے بتایا کہ ضلع میں کووڈ-19 کے سبب دفعہ 144 نافذ ہے، جمعہ کو سینکڑوں کسان نوئیڈا اتھارٹی پر دھرنا دینے کے لیے پہنچے تھے، پولیس نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہوئے۔

کسان تحریک، فائل تصویر / آئی اے این ایس
کسان تحریک، فائل تصویر / آئی اے این ایس
user

تنویر

جمعہ کے روز 81 گاؤں کے کسان اپنے مطالبات کو لے کر نوئیڈا اتھارٹی پر دھرنا دینے پہنچے، لیکن پہلے سے ہی تعینات پولیس نے انھیں ہرولا گاؤں کے پاس گھیر لیا اور کم و بیش 125 کسانوں اور کسان لیڈروں کو گرفتار کر کے انھیں پولیس لائن بھیج دیا گیا۔ اس واقعہ کی خبر ملنے پر بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر نریش ٹکیت نے کہا کہ ’’اس بی جے پی کو ووٹ دینے کا گناہ ہم سے بھی ہوا ہے۔ مودی-یوگی کو ووٹ دے کر ہم نے بڑی غلطی کر دی۔‘‘

کسانوں کی گرفتاری کے تعلق سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (زون اول) رنوجے سنگھ نے بتایا کہ ضلع میں کووڈ-19 کے سبب دفعہ 144 نافذ ہے۔ بھارتیہ کسان کونسل کے بینر تلے جمعہ کو سینکڑوں کسان نوئیڈا اتھارٹی پر دھرنا دینے کے لیے پہنچے۔ پولیس نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہوئے۔ رنوجے سنگھ نے بتایا کہ دھرنا میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل تھیں جنھیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔


واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ اور جمعرات کو بھی پولیس نے سینکڑوں کسان مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ پنجاب کے موگا میں بھی جمعرات کو شرومنی اکالی دل کے ایک پروگرام میں کسانوں نے مبینہ طور پر جبراً داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج اور پانی کی بوچھاروں کا استعمال کرنا پڑا۔ پروگرام کو پارٹی چیف سکھبیر سنگھ بادل خطاب کر رہے تھے، جس کے بعد کسانوں کی طرف سے اس واقعہ کے احتجاج میں دھرنا دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔