طالبان سے ’خفیہ معاہدہ‘ کر کے مشکل میں پھنس گیا امریکہ، بائڈن کی پریشانیوں میں اضافہ

امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے اپنے خط میں فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی جلد بازی میں واپسی نے سیکورٹی میں ایک صفر پر دیا، اور اس کا فائدہ طالبان نے اٹھایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کیا افغانستان چھوڑنے سے قبل طالبان سے خفیہ سمجھوتہ کر کے امریکہ اپنی ہی جال میں بری طرح پھنس گیا ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھ رہا ہے کیونکہ افغانستان بحران کے درمیان دو بڑی خبریں جو نکل کر سامنے آئی ہیں، وہ اسی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔ تازہ اور پہلی خبر یہ ہے کہ امریکہ میں طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کا مطالبہ اٹھا ہے۔ امریکہ کے چار اراکین پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا ہے۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ رِک اسکاٹ، جانی کے انرسٹ، ڈین سلون اور ٹامی ٹیوبرویلے نے وزیر خارجہ کو لکھے خط میں کہا ہے کہ طالبان کی سرگرمیوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ امریکیوں اور امریکی مفادات کے خلاف کام کرتا ہے۔ ایسے میں طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے۔

امریکی اراکین پارلیمنٹ کے اس گروپ نے اپنے خط میں فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی قوتوں کی جلد بازی میں واپسی نے سیکورٹی میں ایک صفر پیدا کر دیا، اس کا طالبان نے فائدہ اٹھاتے ہوئے سبھی افغان علاقوں اور راجدھانی کابل پر قبضہ کر لیا۔ اراکین پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے اپنی انہی قاتلانہ اور استحصال کرنے والی عادتوں کو پھر سے شروع کر دیا جو 2001 میں امریکی فوج کے آنے سے قبل ان کی حکومت میں جاری تھیں۔


امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کا مطالبہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اس سے ٹھیک پہلے طالبان نے امریکہ کو اس خفیہ معاہدہ کے بارے میں یاد دلایا جس میں طالبان نے اپنے ان لیڈروں کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے جنھیں امریکہ نے خود دہشت گرد قرار دیا تھا۔ یہی وہ دوسری بڑی خبر ہے۔

افغانستان میں طالبان کی قیادت والی عبوری حکومت نے امریکہ اور مغربی دنیا کو ان وعدوں کی یاد دلائی ہے جو امریکہ نے اس کی اعلیٰ قیادت کو عالمی پابندیوں اور دہشت گردوں والی فہرست سے ہٹانے کے لیے کیے تھے، جس میں اس کی حکومت کی قبولیت یقینی کرنے کا وعدہ بھی شامل تھا۔


طالبان نے واشنگٹن سے اپنے وعدے کو پورا کرنے اور افغانستان میں حکومت کے قیام کی نامناسب تنقید سے دور رہنے کی گزارش کی ہے۔ طالبان کی قیادت والی حکومت کے کارگزار وزیر خارجہ امیر متقی نے انکشاف کیا کہ امریکہ طالبان حکومت کی قبولیت یقینی کرنے اور اس کے لیڈروں کو عالمی پابندی والی فہرست سے ہٹانے اور دوحہ معاہدہ میں نامزد دہشت گردوں کی فہرست سے ان کے ناموں کو ہٹانے کے لیے راضی ہوا تھا، جس کے سبب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کی واپسی ہوئی۔

امیر متقی نے بتایا کہ دوحہ معاہدہ کے دوران امریکہ نے تحریری شکل میں کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی طبقہ کے ذریعہ طالبان کی قیادت والی حکومت کی قبولیت یقینی کرے گا اور طالبان کے سینئر لیڈروں کے ناموں کو عالمی پابندیوں اور نامزد فہرستوں سے ہٹانا بھی یقینی کرے گا۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے مطالبہ اور دوسری طرف طالبان کے ذریعہ اپنے لیڈروں کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹانے کے خفیہ سمجھوتہ کی یاد دلانے کے درمیان یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ خود کے ذریعہ بنائی گئی جال میں بری طرح پھنس گیا ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔