نوبل پرائز 2021: فلپائن کی صحافی ماریہ ریسا اور روس کی دمتری مراتوف کو ملا امن کا نوبل انعام

نوبل کمیٹی نے کہا کہ یہ ایوارڈ آزادی اظہار کے لیے دونوں کی کوششوں کے پیش نظر دیا گیا ہے، اظہار رائے کی آزادی کسی بھی جمہوریت کے لیے ایک اہم شرط ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسٹاک ہوم: نوبل کمیٹی نے فلپائن کی صحافی ماریہ ریسا اور روس کی دمتری مراتوف کو 2021 کا امن کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ان کی آزادی اظہار کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ فلپائن کی صحافی ماریہ ریسا اور روس کی دمتری مراتوف کو سال 2021 کا امن کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی نے کہا کہ یہ ایوارڈ آزادی اظہار کے لیے دونوں کی کوششوں کے پیش نظر دیا گیا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کسی بھی جمہوریت کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ نوبل کمیٹی نے دونوں کی کوششوں کی بھی تعریف کی ہے۔۔

نوبل کمیٹی نے بتایا کہ آزاد، کھلاپن اور حقائق پر مبنی صحافت طاقت کے غلط استعمال، جھوٹ اور پروپیگنڈے سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ناروے کی تنظیم نے تسلیم کیا کہ آزادی اظہار اور اطلاعات کی آزادی لوگوں کو آگاہ کرتی ہے۔ یہ حقوق جمہوریت کے لیے پیشگی شرائط ہیں اور جنگ اور تنازعات میں ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ماریہ اور دمتری کو دیا جانے والا ایوارڈ ان بنیادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔


ماریہ ریسا فلپائن کے صدر کی ناقد ہیں اور ماضی میں انہیں کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ انہیں حال ہی میں ایک فیصلے میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے کو ملک میں آزادی صحافت کے لیے بڑا دھچکا قراردیا گیا۔ منیلا کی ایک عدالت نے آن لائن نیوز سائٹ ریپلر انکارپوریٹڈ کی ماریہ ریسا اور سابق رپورٹر رینالڈو سینٹوس جونیئر کو ایک امیر تاجر کو بدنام کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

دمتری مراتوف روس میں آزادی اظہار کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ روسی اخبار نووایا گزیٹا کے ایڈیٹر ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پیوٹن کے دور حکومت میں ان کا واحد اخبار ایسا ہے جو حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اس اخبار نے پیوٹن حکومت میں بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی معاملات کو بے نقاب کیا ہے۔


واضح رہے کہ امن کا نوبل انعام ایک ایسی تنظیم یا شخص کو دیا جاتا ہے جس نے قوموں میں بھائی چارے کو فروغ دینے میں بہترین کام کیا ہو۔گزشتہ سال یہ ایوارڈ ورلڈ فوڈ پروگرام کو دیا گیا تھا، جو 1961 میں امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کی ہدایات پر پوری دنیا میں بھوک سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ روم میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی کو یہ ایوارڈ عالمی سطح پر بھوک اور خوراک کی حفاظت سے لڑنے کی کوششوں کے لیے دیا گیا۔ باوقارایوارڈ کے تحت ایک سونے کا تمغہ اور ایک کروڑ سویڈش کرونر (11.4 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم) دیئے جاتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔