لکھیم پور تشدد: مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش نے یو پی پولیس کو دکھایا ٹھینگا، نہیں ہوا حاضر

پولیس ذرائع کے مطابق پولیس آشیش مشرا کے موبائل فون کو ٹریک کر رہی تھی اور اس کی لوکیشن جمعرات کو یو پی-نیپال بارڈر پر گوریفنٹا کے پاس ملی، حالانکہ وہ مستقل اپنی جگہ بدل رہا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا جمعہ کو لکھیم پور کھیری پولیس کے سامنے بیان درج کرانے کے لیے پیش نہیں ہوئے۔ آشیش کو جمعہ کو ریزرو پولیس لائن واقع کرائم برانچ دفتر میں صبح 10 بجے پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ مقررہ وقت پر موجود نہیں ہوا۔

پولیس ذرائع کے مطابق پولیس آشیش مشرا کے موبائل فون کو ٹریک کر رہی تھی اور اس کی لوکیشن جمعرات کو یو پی-نیپال بارڈر پر گوریفنٹا کے پاس ملی۔ حالانکہ وہ مستقل اپنی جگہ بدل رہا ہے، غالباً وہ اب اتراکھنڈ کے باجپورہ میں ہے۔


ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ ’’ہم نے اتراکھنڈ اور نیپال میں اپنے ہم منصبوں کو الرٹ کر دیا ہے اور اس کی تلاش کے لیے ٹیموں کی تشکیل دی گئی ہے۔‘‘ اس درمیان لکھیم پور کے شاہ پورہ علاقے یں ان کی رہائش پر کارکنان نے کہا کہ وہ دو دن پہلے گھر سے نکلے تھے۔ اس درمیان سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو کہا کہ اجے مشرا ٹینی کے نیپال کے ساتھ پرانے رشتے ہیں اور اب اس معاملے میں مداخلت کرنا مرکزی حکومت پر منحصر ہے۔

واضح رہے کہ 3 اکتوبر کو نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ طے پروگرام کے تحت لکھیم پور کھیری کے دورے پر تھے۔ انھیں لینے کے لیے گاڑیاں جا رہی تھیں۔ یہ گاڑیاں مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کی بتائی گئیں۔ راستے میں تکونیا علاقے میں کسانوں نے احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا۔ پھر دونوں فریقین میں تصادم کا معاملہ سامنے آیا۔ بعد میں ایسا الزام عائد کیا گیا کہ آشیش مشرا نے کسانوں کے اوپر گاڑی چڑھا دی، جس سے 4 لوگوں کی موت ہو گئی۔ کسانوں کی موت کے بعد معاملہ سنگین ہو گیا اور حالات بھی بے قابو ہو گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔