چیچک کی مانند بہ آسانی پھیل سکتا ہے کورونا کا ’ڈیلٹا ویریئنٹ‘!

ایک دستاویز کے مطابق ڈیلٹا ویریئنٹ ایسے وائرس کے مقابلے میں زیادہ پھیلتا ہے جو مرس، سارس، ایبولا، عام سردی اور موسمی بخار کا سبب بنتا ہے، اور یہ چیچک کی طرح ہی تیز انفیکشن والا ہے۔

کورونا، تصویر آئی اے این ایس
کورونا، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

کورونا کے ڈیلٹا ویریئنٹ سے متعلق ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ چیچک کی مانند بہ آسانی اور تیزی کے ساتھ لوگوں میں پھیل سکتا ہے۔ کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ وائرس کی دیگر سبھی شکلوں کے مقابلے میں زیادہ سنگین بیماری کا سبب بن سکتا ہے اور چیچک کی طرح تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی ہیلتھ اتھارٹی کے ایک داخلی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے شائع ایک رپورٹ میں اس طرح کی باتیں لکھی گئی ہیں۔

یہ رپورٹ سب سے پہلے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مرض کنٹرول اور روک تھام سنٹر (سی ڈی سی) کے دستاویز میں غیر شائع اعداد و شمار کی بنیاد پر دکھایا گیا ہے کہ ٹیکے کی سبھی خوراکیں لے چکے لوگ بھی بغیر ٹیکہ واے لوگوں جتنا ہی ڈیلٹا ویریئنٹ کو پھیلا سکتے ہیں۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں ڈیلٹا ویریئنٹ کی شناخت سب سے پہلے کی گئی تھی۔


بہر حال، سی ڈی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ریشیل پی والنسکی نے گزشتہ منگل کو اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیکہ لے چکے لوگوں کی ناک اور گلے میں وائرس کی موجودگی اسی طرح رہتی ہے جیسے کہ ٹیکہ نہ لینے والوں میں۔ داخلی دستاویز میں وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے کچھ دیگر سنگین علامتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق ڈیلٹا ویریئنٹ ایسے وائرس کے مقابلے میں زیادہ پھیلتا ہے جو مرس، سارس، ایبولا، عام سردی اور موسمی بخار کا سبب بنتا ہے، اور یہ چیچک کی طرح ہی انفیکشن والا ہے۔ اس دستاویز کی ایک کاپی ’نیو یارک ٹائمز‘ نے بھی حاصل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔