چین کی ناپاک حرکت بھی آئی سامنے، پینگونگ جھیل پر بنایا پُل

چین پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں کو جوڑنے والے پل کی تعمیر کا کام کم از کم دو مہینے سے کر رہا ہے، یہ پل چینی پیپلز لبریشن آرمی کے دونوں سائیڈ فوراً پہنچنے میں معاون ہوگا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے پاس چین کی ناپاک حرکتیں جاری ہیں۔ اب چین کے ذریعہ سرحد کے قریب پینگونگ جھیل پر ایک پُل بنائے جانے کی خبر ہے۔ اس پُل کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ جمعرات کو وزارت داخلہ نے کہا کہ چین کے ذریعہ پینگونگ جھیل پر ایک پل کی غیر قانونی تعمیر کے بعد سرکار پورے حالات پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان ارندم باگچی نے پینگونگ جھیل کے چینی کنارے پر پڑوسی ملک کے ذریعہ بنائے جا رہے ایک پُل کے بارے میں سامنے آئی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سرگرمی کی باریکی سے نگرانی کر رہا ہے۔ اس پُل کی تعمیر ان علاقوں میں کی جا رہی ہے جو تقریباً 60 سال سے چین کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں، ہندوستان نے کبھی بھی اس طرح کے غیر قانونی قبضے کو قبول نہیں کیا ہے۔


ارندم باگچی نے کہا کہ ہمارے سیکورٹی مفادات کی پوری طرح سے دفاع یقینی کرنے کے لیے حکومت سبھی ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کوششوں کے تھت حکومت نے گزشتہ سات سالوں کے دوران سرحد سے ملحق بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بجٹ میں قابل ذکر اضافہ کیا ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ سڑکوں اور پُلوں کو پورا کیا ہے۔ ان سے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کو بہت ضروری کنکٹویٹی فراہم کی گئی ہے۔ حکومت اس مقصد کے لیے پرعزم ہے۔

یہ پایا گیا ہے کہ چین پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں کو جوڑنے والے پُل کا تعمیری کام کم از کم دو مہینے سے کر رہا ہے۔ یہ پُل چینی پیپلز لبریشن آرمی کو دونوں سائیڈ فوراً پہنچنے میں معاون ہوگا، جو ہندوستان کی سیکورٹی کے لیے سنگین اور موضوعِ فکر ہے۔ ہندوستان نے اگست 2020 میں جنوبی ساحل پر کیلاش رینج پر اہم اونچائیوں پر اپنا قبضہ کر لیا تھا، جس سے ہمارے فوجیوں کو ایک اسٹریٹجک فائدہ ملا تھا۔ حالانکہ گزشتہ سال فروری میں پینگونگ میں فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے ساتھ ہندوستان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے آپسی پُل بیک منصوبہ کے حصے کے طور پر ان اونچائیوں سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ اس کے بعد چین کی طرف سے یہ نئی جارحیت سامنے آئی ہے۔


اس کے علاوہ چین نے یکم جنوری کو اپنے نئے سرحدی قانون کو نافذ کیا، جو اپنی سرحد سیکورٹی کو مضبوط کرنے اور گاؤں اور سرحدوں کے پاس بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا اعلان کرتا ہے۔ قانون کے نافذ ہونے سے ٹھیک پہلے چین نے اپنے نقشے میں اروناچل پردیش کے 15 مقامات کے نام بدل دیے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان تقریباً دو سال سے سرحد تنازعہ اپنے عروج پر ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔