مغربی بنگال میں کورونا کا قہر جاری، سینکڑوں ڈاکٹر کورونا سے متاثر

مغربی بنگال میڈیکل کارپوریشن کے 135 افراد میں سے 87 لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں، اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ہیلتھ بلڈنگ میں گروپ ٹرانسمیشن ہوا ہے۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال میں کورونا کے تیزی سے پھیلنے والے انفکشن کی وجہ سے صحت کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ریاستی صحت کے ڈائریکٹر اجے چکرورتی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہیلتھ ایجوکیشن کے ڈائریکٹر دیباشیش بھٹاچاریہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی ہیلتھ مشن کے ڈائریکٹر سومترا موہن بھی متاثر پائے گئے ہیں۔

مغربی بنگال میڈیکل کارپوریشن کے 135 افراد میں سے 87 لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ہیلتھ بلڈنگ میں گروپ ٹرانسمیشن ہوا ہے۔ ریاست کے تقریباً تمام اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز بھی کورونا سے متاثر ہیں۔ چترنجن نیشنل میڈیکل کالج اور اسپتال کے 106 میڈیکل طلباء کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں 200 سے زیادہ نرسیں، ہیلتھ ورکر، ڈاکٹر متاثر پائے گئے ہیں۔ کلکتہ کے ہی این آر ایس اسپتال میں تقریباً 198 افراد مثبت پائے گئے ہیں۔ کلکتہ کے نیشنل میڈیکل کالج اور اسپتال میں 182 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 107 کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔


سروس ڈاکٹرز فورم کے خزانچی ڈاکٹر سوپن بسواس جو خود بھی کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ کورونا کی پہلی لہر کی طرح اس بار بھی ڈاکٹرز، نرسیں اور ہیلتھ ورکرز بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے محکمہ صحت متاثر ہوگیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت کورونا کے معاملات پر توجہ دے اور آپریشن اور سرجری جیسی غیر ضروری خدمات کو فی الوقت ملتوی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں بیڈز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس وقت سرکاری اسپتالوں میں صورتحال معمول پر ہے، تاہم اگر اعداد و شمار اسی طرح بڑھتے رہے تو اگلے ہفتے اسپتالوں میں بیڈز کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔