یوراج مہتا موت معاملہ: ایس آئی ٹی نے مانگے مزید جواب، 500 سے زائد صفحات کی رپورٹ تیار، سخت کارروائی کے اشارے

ایس آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران نوئیڈا اتھارٹی کی جانب سے دیے گئے جوابوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس آئی ٹی نے اتھارٹی سے 5 اضافی نکات پر واضح جواب طلب کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مہلوک یوراج مہتا کی فائل تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

یوراج مہتا کی موت کے معاملے میں تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی کمیٹی (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ایس آئی ٹی نے 9 گھنٹے کے اندر 100 سے زائد لوگوں کے بیان درج کیے ہیں اور تحقیقات کے دوران نوئیڈا اتھارٹی کی جانب سے دیے گئے جوابوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس آئی ٹی نے اتھارٹی سے 5 اضافی نکات پر واضح جواب طلب کیا ہے۔ ان نکات پر جواب منگل تک تیار کیے جانے ہیں، جس کے بعد ایس آئی ٹی کی ٹیم ایک بار پھر نوئیڈا اتھارٹی پہنچ جائے گی۔

تحقیقات کے دوران ایس آئی ٹی کا موقف کافی سخت نظر آیا۔ ٹیم نے صرف نوئیڈا اتھارٹی ہی نہیں، بلکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے بھی سخت سوال پوچھے ہیں۔ تینوں محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعہ کے وقت کی صورتحال، رد عمل کا وقت، فیصلہ لینے کے عمل اور موقع پر کی گئی کارروائی سے منسلک تفصیلی معلومات دوپہر تک فراہم کریں۔


ایس آئی ٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ واقعہ کے وقت کس سطح پر لاپرواہی ہوئی اور کن وجوہات سے صورتحال سنگین ہوتی چلی گئی۔ اس پورے معاملے میں 3 اہم محکموں ’نوئیڈا اتھارٹی، ضلع انتظامیہ (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) اور پولیس‘ کی جانب سے تقریباً 500 صفحات سے زائد کی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ نوئیڈا اتھارٹی پہلے ہی 60 صفحات کی رپورٹ ایس آئی ٹی کو سونپ چکی ہے، جبکہ اضافی جوابوں کے بعد یہ رپورٹ تقریباً 100 صفحات تک پہنچ جائے گی۔

جبکہ ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس کی جانب سے 200 سے 300 صفحات تک کی مختلف رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ تمام محکموں سے موصول جوابوں کو مرتب کیا جائے گا اور اس کے بعد مشترکہ رپورٹ ایس آئی ٹی کو سونپی جائے گی۔ ایس آئی ٹی اس رپورٹ کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد اسے حکومت کو بھیجے گی۔ تحقیقاتی ایجنسی کی حتمی رپورٹ براہ راست وزیر اعلیٰ کو سونپی جائے گی، جس کی بنیاد پر اس معاملے میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔


رپورٹس کے مطابق ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں افسران کا کردار، فیصلہ لینے میں ہوئی تاخیر، لاپرواہی اور سسٹم کی ناکامی کو نمایاں طور پر درج کیا جائے گا۔ ایس آئی ٹی کی بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ کس سطح پر ذمہ داری طے ہوتی ہے اور کن فیصلوں یا لاپرواہیوں کے باعث حالات بے قابو ہوئے۔ ایس آئی ٹی کے ذریعہ پوچھے گئے اضافی سوالوں اور تحقیقات کی سمت سے یہ صاف اشارے مل رہے ہیں کہ ہر متعلقہ محکمے کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ رپورٹ میں معطلی، محکمانہ کارروائی اور سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر انتظامی کارروائی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملے آنے والے دنوں میں مزید سرخیوں میں رہنے والا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔