نوئیڈا حادثہ: ’بھگوان بھروسے چھوڑ دیا گیا میرا بیٹا‘، انجنیئر یوراج مہتا کی تعزیتی نشست میں چھلکا والد کا درد

میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجکمار مہتا نے کہا کہ ان کے بیٹے نے پوری ہمت دکھائی۔ حادثے کے بعد بھی اس نے سخت جدوجہد کی، انتظامیہ کو کارروائی کا وقت دیا، لیکن ریسکیو ٹیم کی شدید لاپرواہی نے اس کی جان لے لی۔

<div class="paragraphs"><p>مہلوک یوراج مہتا کی فائل تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

27 سال کے سافٹ ویئر انجنیئر یوراج مہتا کے سامنے پورا مستقبل پڑا تھا، کیریئر، خواب اور خاندان کی امیدیں سب کچھ ایک ہی لمحے میں ختم ہو گیا۔ اب ان کے والد راجکمار مہتا کے لیے سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ کوئی بھی سزا ان کے بیٹے کو واپس نہیں لا سکتی، لیکن ذمہ داروں پر کارروائی سے کسی اور کے گھر میں ایسا ماتم ضرور روکا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دردناک حادثہ 17 جنوری کی صبح نوئیڈا سیکٹر-150 میں ہوا۔ گھنے کہرے کے درمیان یوراج کی ایس یو وی سڑک سے پھسل کر ایک ایسے گڑھے میں جا گری جو پانی سے بھرا تھا اور جہاں کوئی بیریکیڈ یا انتباہی نشان موجود نہیں تھا۔

حادثے نے سب سے زیادہ جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا منظر یوراج کے والد کے لیے چھوڑ دیا۔ راجکمار مہتا نے اپنے بیٹے کو پانی سے بھرے گڑھے میں باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ یوراج نے تقریباً 2 گھنٹے تک زندگی کی جنگ لڑی۔ یہ وقت کسی بھی بچاؤ مہم کے لیے کافی تھا، لیکن مدد وقت پر نہیں پہنچی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجکمار مہتا نے کہا کہ ان کے بیٹے نے پوری ہمت دکھائی۔ حادثے کے بعد بھی اس نے سخت جدوجہد کی اور انتظامیہ کو کارروائی کا وقت دیا، لیکن ریسکیو ٹیم کی شدید لاپرواہی نے اس کی جان لے لی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر صحیح قدم اٹھائے جاتے، تو یوراج آج زندہ ہوتا۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں ہے کہ بلکہ لاپرواہ سسٹم کا نتیجہ ہے۔


غمزدہ باپ نے میڈیا ور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یوراج کی موت کے بعد وہ مکمل طور سے ٹوٹ چکے تھے، لیکن میڈیا کی آواز اور لوگوں کی حمایت نے انہیں انصاف کی لڑائی لڑنے کی طاقت دی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد بدلا نہیں ہے بلکہ جوابدہی طے کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو یہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

متوفی یوراج کے والد راجکمار مہتا کا کہنا ہے کہ یوراج کے لیے انہیں کبھی مکمل انصاف نہیں مل سکتا، کیونکہ بیٹا لوٹ کر نہیں آئے  گا۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس حادثے کے لیے ذمہ دار ہر شخص کو سزا ملے اور کسی بھی قصوروار کو بخشا نہ جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے میں سخت کارروائی ہوتی ہے تو مستقبل میں کسی اور یوراج کو ایسے سانحہ کا سامنہ نہیں کرنا پڑے گا۔


واضح رہے کہ اس معاملے میں نوئیڈا اتھارٹی کے سی ای او کو ہٹا دیا گیا ہے۔ ایک جونیئر انجنیئر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ حادثے کے بعد 3 بلڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ریئل اسٹیٹ ڈویلپرز ایم زیڈ وِز ٹاؤن اور لوٹن گرینس کے خلاف بھی تحقیقات چل رہی ہے۔ معاملہ میں قتل اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی جسیے سنگین الزامات شامل کیے گئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔