نوئیڈا میں انجینئر کی موت: فائر سروس کے نظام پر سوال، لازمی تیراکی کی تربیت نہ ہونے کا انکشاف
نوئیڈا میں انجینئر کی موت کے بعد انکشاف ہوا کہ فائر اہلکاروں کو تیراکی نہیں آتی تھی، حالانکہ 2023 میں لازمی تربیت کے احکامات جاری ہو چکے تھے۔ واقعے نے ریسکیو نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا کے سیکٹر 150 میں 27 سالہ سافٹ ویئر انجینئر کی موت کے معاملے نے ریاستی فائر سروس کے تربیتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ واقعے کے وقت موقع پر موجود فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کو تیراکی نہیں آتی تھی، حالانکہ فائر اہلکاروں کو تیراکی کی لازمی تربیت دینے کے واضح احکامات برسوں پہلے جاری کیے جا چکے تھے۔
اے بی پی نیوز نے فائر ہیڈکوارٹر کے ایک سرکاری خط کے حوالہ سے رپورٹ کیا ہے کہ سال 2023 میں تمام اضلاع کو ہدایت دی گئی تھی کہ فائر اسٹیشنوں میں تعینات اہلکاروں کو قریبی سوئمنگ تربیتی مراکز کے ذریعے تیراکی کی عملی تربیت فراہم کی جائے، تاکہ آبی حادثات، ندیوں، تالابوں اور پانی بھرے علاقوں میں ریسکیو کارروائی مؤثر بنائی جا سکے۔ اس کے باوجود نوئیڈا میں آج تک فائر اہلکاروں کو باقاعدہ سوئمنگ ٹریننگ نہ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ فائر اسٹیشنوں میں تعینات فائر مین، لیڈنگ فائر مین اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کو اس تربیت سے گزارنا لازمی ہوگا، لیکن زمینی سطح پر ان احکامات پر عمل نہ ہونے کے سبب ایک قیمتی جان ضائع ہو گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ 16 جنوری کی رات گروگرام میں کام کرنے والا نوجوان انجینئر یوراج مہتا اپنے گھر لوٹ رہا تھا کہ اس کی گاڑی سیکٹر 150 میں ایک زیر تعمیر مقام کے قریب پانی سے بھرے گہرے گڑھے میں جا گری۔ نوجوان نے مبینہ طور پر طویل وقت تک مدد کے لیے آوازیں دیں، مگر گھنے کہرے اور مناسب ریسکیو مہارت کی کمی کے باعث اسے بروقت باہر نہ نکالا جا سکا۔
اس دوران پولیس، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں اور بچاؤ کی کوششیں کی گئیں، مگر ریسکیو آپریشن کی سست رفتاری اور تیراکی میں نااہلی جان لیوا ثابت ہوئی۔ نوجوان کے والد راج کمار مہتا جائے حادثہ پر موجود رہے اور اپنے بیٹے کو مرتا دیکھتے رہے، جو اس سانحے کو مزید دل خراش بنا دیتا ہے۔
واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ تاہم یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں میں احکامات اور عمل درآمد کے درمیان موجود خطرناک خلا کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر سنجیدہ اور فوری توجہ ناگزیر ہو گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔