حادثے سے پہلے ملے گا الرٹ! ہندوستان میں آرہی نئی ٹکنالوجی، آپس میں بات بھی کرسکیں گی گاڑیاں
اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے نہ تو انٹرنیٹ کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی موبائل نیٹ ورک کی۔ حکومت کا مقصد ڈرائیوروں کو خطرات کے بارے میں پیشگی معلومات فراہم کرکے ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک ہندوستان میں سڑک حادثات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہر سال سینکڑوں لوگ حادثات میں اپنی جان گنوادیتے ہیں۔ انہیں کم کرنے کے لیے نئی اور منفرد ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جسے وہیکل ٹو وہیکل (وی2 وی) ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے براہ راست بات کرسکیں گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کے لئے نہ تو انٹرنیٹ کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی موبائل نیٹ ورک کی۔ حکومت کا مقصد ڈرائیوروں کو خطرات کے بارے میں پیشگی معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیارکرکے حادثات سے بچ سکیں۔
درحقیقت وی 2 وی ٹیکنالوجی کے تحت ہر گاڑی میں ایک چھوٹا ڈ،یوائس لگایا جائے گا جو سم کارڈ کی طرح دکھائی دے گا۔ یہ ڈیوائس آس پاس چل رہی یا سڑک کے کنارے کھڑی دوسری گاڑیوں سے مسلسل سگنل بھیجے گا اور وصول کرے گا۔ جب بھی دو گاڑیاں بہت قریب آئیں یا آپس میں ٹکرانے کا خطرہ ہو تو سسٹم ڈرائیور کو فوری طور پر الرٹ کر دے گا۔ اس سے ڈرائیورکو پہلے ہی پتہ چل جائے گا کہ آگے خطرح ہے اور وہ بریک لگا کرممکنہ حادثے سے بچ سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ایسے حالات میں بہت فائدہ مند ہو گی جہاں اکثر سنگین حادثات پیش آتے ہیں۔ جیسے سڑک کنارے کھڑی گاڑیوں سے پیچھے سے ٹکرانے کی وارداتیں کم ہوں گی۔ کہرے کے حالات میں جب سامنے کی گاڑی نظر نہیں آتی تب بھی ڈرائیور کو الرٹ ملے گا۔ تیز رفتار ٹریفک میں اچانک بریک لگنے یا دوری کم ہونے پر بھی یہ سسٹم بروقت وارننگ دے گا جس سے ممکنہ طور پر حادثہ ٹل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سڑک حادثات میں تمل ناڈو سر فہرست
اس سلسلے میں روڈ ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے بتایا کہ حکومت جلد ہی اس ٹیکنالوجی کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہرا اور سڑک پرکھڑی گاڑیاں کئی بڑے حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ وی2 وی ٹیکنالوجی ڈرائیوروں کو اس طرح کے واقعات سے پہلے ہی آگاہ کر دے گی۔ اس کے ساتھ ہی بسوں میں نئے سیفٹی فیچرس لگائے جائیں گے جس سے مسافروں کی حفاظت مزید مضبوط ہوگی۔
وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو 2026 کے آخر تک شروع کیا جا سکتا ہے۔ اسے ابتدائی طور پر نئی گاڑیوں میں نصب کیا جائے گا اور پھر اسے بتدریج دوسری گاڑیوں میں بھی لاگو کیا جائے گا۔ حکومت اس پروجیکٹ پر تقریباً 5000 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔