مزدوروں کے خلاف آمرانہ فیصلہ واپس لے یوگی حکومت: دانش علی

دانش علی نے کہا کہ مزدوروں کے کام کے گھنٹوں کو آٹھ کی جگہ 12 کرنا ظالمانہ فیصلہ ہے۔ میں اتر پردیش کی حکومت کے مزدور مخالف اس فیصلے کی مخالفت کرتا ہوں اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھا رکن پارلیمان کنور دانش علی نے اتوار کو کہا کہ کورونا وبا کے سبب ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے محنت کش طبقہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے، ایسے میں اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی طرف سے تین سال تک کے لئے مزدور قوانین کو ملتوی کر دینا، ان کے مفادات اور حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔

دانش علی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ حکومت کو ایسے حالات میں سنجید گی کا اظہار کرنا چاہیے تھا، مزدوروں کے زخموں پر مرہم لگانے کی ضرورت تھی۔ اتر پردیش کی حکومت کو اپنے اس آمرا نہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔ لیبر قوانین کو ختم کرنے سے سرمایہ دارانہ طاقتیں مزید مضبوط ہوں گی۔ حکومت نے ہمیشہ مزدوروں کے مفادات کو درکنار کر کے امیر طبقات کا ساتھ دیا، جب لاک ڈاؤن میں ملک کا مزدور طبقہ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا ہے، ایسے میں مزدوروں کو سہارا دینے کے بجائے یوگی حکومت نے ان کے مفادات پر حملہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’مزدور ملک کی تعمیر کی بنیاد ہوتے ہیں۔ حکومت نے ملک کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے کا کام کیا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ اب ملک کورونا سے لڑ رہا ہے اور یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ بحران کب تک جاری رہے گا جس سے ملک کی اقتصادی حالت بگڑنے کا خدشہ ہے۔ اگر ہم نے مزدوروں کے مفادات کو نظر انداز کیا تو ہم ملک میں صنعتوں کو کیسے چلائیں گے اور اقتصادی صورتحال کو پٹری پر کس طرح لا پائیں گے۔ آئین ہند کے معمار بابا بھیم راؤ امبیڈکر نے بھی آئین کے ذریعہ مزدور طبقے کو جو حقوق دیئے تھے حکومت انہیں چھیننے کا کام کر رہی ہے۔ ایسے میں مزدوروں کا حکومت سے اعتماد اٹھے گا اور بحران پیدا ہوگا ‘‘۔

امروہہ سے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی حکومتوں کی طرف سے لائے گئے ایسے آرڈیننس سے مکمل کمان مالکان کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور مزدور اپنے حقوق کے لئے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔ نہ بیماری کی شکایت، نہ برے رویے کی شکایت، نہ سہولت کی شکایت کا حق مزدوروں کے پاس رہ جائے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی ملک کو دوبارہ طبقاتی نظام اور امیروں کی جابرانہ پالیسیوں پر لے جانا چاہتی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے مزدور طبقے پر ظلم بڑھے گا جس کا پہلے سے وہ شکار ہیں۔ تمام جماعتوں کو اس کی مخالفت میں آواز بلند کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا ’’ کام کے گھنٹوں کو آٹھ کی جگہ 12 کرنا ظالمانہ فیصلہ ہے۔ میں اتر پردیش کی حکومت کے مزدور مخالف اس فیصلے کی مخالفت کرتا ہوں اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ میری صدر جمہوریہ رام ناتھ كووند سے بھی یہ اپیل ہے کہ مزدور مخالف اس آرڈیننس کو اپنی منظوری نہ دیں اور مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کریں۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 May 2020, 4:40 PM
next