یوگی اور مودی حکومت لکھیم پور کھری کے مجرموں کو بچا رہی ہے: کانگریس

کانگریس لیڈر رندیپ سرجے والا نے ایک بار پھر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کو کابینہ سے برخاست کرنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ قصورواروں کو فوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔

کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس نے آج مرکز کی مودی حکومت اور اتر پردیش کی یوگی حکومت کو لکھیم پور کھیری واقعہ کو لے کر سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا ہے کہ ’’حکومت نے لکھیم پور کھیری کیس میں سپریم کورٹ میں آج جو کچھ کہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت قانون کو ٹائر کے نیچے روندنے والے مجرموں کو بچا رہی ہے۔‘‘

کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سرجے والا نے پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کو مرکزی کابینہ سے برخاست کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا اور کہا کہ ان معاملات میں قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے معاملے میں دو ججوں کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم-ایس آئی ٹی تشکیل دے کر معاملے کی تفتیش کی جائے اور پورے کیس کی 30 دن میں جامع تحقیقات کا کام مکمل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ غنڈہ گردی سے لوگوں کو دھمکاتے رہے اور اس کے بعد لوگوں کو گاڑی کے نیچے روند دیا۔


سرجے والا نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ لکھیم پور کھیری کیس میں حکومت نے سپریم کورٹ میں دو اہم بات کہی جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو پیش ہونے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کبھی ہوتا نہیں ہے کہ ملزم کو نوٹس دیا جائے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں اس طرح کے عجیب و غریب کیس سامنے آ رہے ہیں۔

کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ عدالت میں حکومت نے دوسری حیرت انگیز بات یہ کہی ہے کہ لکھیم پور واقعہ میں فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے، حالانکہ ملزم پیش نہیں ہوا اور نہ ہی معاملے کی تحقیقات ہوئی ہے، لیکن اتر پردیش حکومت نے کہہ دیا کہ اسے جائے وقوع پرگولی کے کہیں کوئی ثبوت نہیں ملے۔ اترپردیش حکومت کی یہ ایک طرح سے ملزمان کو کلین چٹ ہے۔


سرجے والا نے کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے خلاف پہلے سے ہی قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ یہ بھی ملک کا پہلا کیس ہوگا جس میں قتل کے معاملے کو عدالت نے ساڑھے تین سال تک دبا کر رکھا ہے۔ ملک میں ایسا کوئی کہیں دوسرا معاملہ نہیں ہے جہاں اتنے عرصے سے معاملے کو دبا کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں بہت سست روی سے کام کر رہی ہے اور 3 سے 8 اکتوبر تک اس معاملے میں ایک بھی مجرم کو پکڑا نہیں گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔