پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے، کسان تحریک اور مہنگائی مودی حکومت کو کرے گی پریشان

سرمائی اجلاس کے دوران کسان تحریک، مہنگائی، بے روزگار، پٹرول کی قیمت اور پیگاسس جاسوسی واقعہ جیسے ایشوز پر اپوزیشن مرکزی حکومت کو گھیرے گا جس سے اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

پارلیمنٹ، تصویر آئی اے این ایس
پارلیمنٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہوگا جو 23 دسمبر تک چلے گا۔ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں سیاسی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی پی اے) کی میٹنگ میں پیر کو یہ فیصلہ لیا گیا۔ گزشتہ اجلاس کی طرح دونوں ایوانوں (راجیہ سبھا اور لوک سبھا) کی میٹنگ کووڈ-19 گائیڈ لائنس کے مطابق ایک ساتھ منعقد کی جائے گی اور دونوں ایوانوں کے اراکین سے سماجی دوریوں کے ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کی امید کی گئی ہے۔

دونوں ایوانوں کی تقریباً 20 میٹنگیں ہوں گی۔ اس اجلاس میں سرکار عوامی سیکٹر کے بینکوں کی نجکاری کے لیے بل پیش کر سکتی ہے۔ دھیان رہے کہ حکومت نے اس سال عام بجٹ میں اس کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ یونیورسل پنشن کوریج یقینی کرنے کے لیے قومی پنشن نظام ٹرسٹ کو پی ایف آر ڈی اے سے الگ کرنے کی سہولت کے لیے پنشن فنڈ ریگولیٹری اور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے) ایکٹ، 2013 میں ترمیم کے لیے بھی ایک بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔


اس کے علاوہ نارکوٹکس اینڈ ڈرگس سائکوٹروپک سبسٹانس (ترمیم) آرڈیننس، 2021 کو بدلنے کے لیے ایک بل، جسے این ڈی پی ایس ایکٹ میں سخت سزا کے التزام کے لیے 30 ستمبر کو ظاہر کیا گیا تھا، کو بھی سرمائی اجلاس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ سرکار گرانٹ کے ضمنی طلب کے دوسرے حصہ کو بھی پیش کر سکتی ہے، جس سے اسے مالی بل کے علاوہ اضافی خرچ کی اجازت مل جائے گی۔

پارلیمنٹ کا یہ اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ مہنگائی، بے روزگاری، کسان تحریک، لکھیم پور کھیری واقعہ وغیرہ ایشوز کو لے کر اپزیشن حکومت سے جواب طلب کرے گا۔ ساتھ ہی پیگاسس جاسوسی واقعہ کا ایشو بھی پارلیمنٹ میں نئے سرے سے اٹھنے کا امکان ہے۔


واضح رہے کہ کووڈ-19 کے سبب گزشتہ سال پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس نہیں ہوا تھا، اور بجٹ اجلاس اور مانسون اجلاس کو بھی چھوٹا کر دیا گیا تھا۔ پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ ڈاٹا کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں پروڈکٹیویٹی یعنی کام کافی کم درج کیا گیا ہے، جس میں لوک سبھا کا کام صرف 21 فیصد، جب کہ راجیہ سبھا کا کام محض 28 فیصد درج کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔