’کیا اتراکھنڈ کے گورنر بھی بدری ناتھ-کیدارناتھ نہیں جا پائیں گے؟‘ غیر ہندوؤں کی انٹری روکنے پر کانگریس کا سوال
کانگریس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور حکومت کو اس پر واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔

چار دھام یاترا کے اہم تیرتھ ’گنگوتری دھام‘ میں غیر ہندوؤں کے داخلہ پر پابندی کا معاملہ پہلے ہی سرخیوں میں تھا، اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جلد ہی بدری ناتھ اور کیدارناتھ دھام میں بھی غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع کرنے کے لیے تجویز کو جلد منظوری ملنے والی ہے۔ اس طرح کی خبروں پر کانگریس نے اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا ہے اور ریاست کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’گنگوتری مندر کمیٹی‘ نے گنگوتری دھام کی مذہبی پاکیزگی اور روایات کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے غیر ہندوؤں کے داخلہ پر مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مندر کمیٹی کے صدر سریش سیموال کا کہنا ہے کہ گنگوتری دھام ایک مقدس ہندو تیرتھ استھل ہے اور اس کی مذہبی عظمت برقرار رکھنا کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ اسی مقصد کے تحت یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ دھام میں غیر ہندوؤں کا داخلہ پوری طرح ممنوع رہے گا۔
کمیٹی کے اس فیصلہ کو کچھ مقامی لوگوں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے دھام کی پاکیزگی، روایات اور مذہبی اقدار محفوظ رہیں گی۔ حالانکہ اس فیصلہ سے متعلق اب تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اب چار دھام یاترا کے 2 اہم تیرتھ، یعنی کیدارناتھ اور بدری ناتھ دھام میں بھی غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ اس معاملے پر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس تعلق سے کانگریس ترجمان سجاتا پال کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ ہندو ہونے کی تعریف کیا ہے، اور یہ طے کون کرے گا کہ کون ہندو ہے اور کون نہیں۔ کانگریس ترجمان نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’جن لوگوں کو آپ وی آئی پی دَرشن کراتے ہیں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں ٹھہراتے ہیں اور ان کے ساتھ تصویریں کھنچواتے ہیں، کیا ان کا آنا بھی بند ہوگا؟‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ’’کیا اب اتراکھنڈ کے گورنر بھی کیدارناتھ اور بدری ناتھ دھام نہیں جا پائیں گے؟‘‘ توجہ طلب ہے کہ اتراکھنڈ کے موجودہ گورنر لیفٹیننٹ جنرل گرمیت سنگھ (ریٹائرڈ) ہیں، اور ظاہر ہے کہ وہ مذہبی طور پر غیر ہندو ہیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور حکومت کو اس پر واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ دوسری طرف بدری ناتھ-کیدارناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے مذکورہ تیرتھ مقامات پر غیر ہندوؤں کے داخلہ پر پابندی لگانے کو درست ٹھہرایا ہے۔ کمیٹی کے صدر ہیمنت دویدی نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ بدری ناتھ اور کیدارناتھ جیسے دھام کوئی سیاحتی مقامات نہیں، بلکہ سناتن مذہب کے اعلیٰ ترین روحانی مراکز ہیں، جہاں داخلہ کو شہری حق کے بجائے مذہبی روایت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔