ہریدوار واقع گنگا گھاٹ ’ہر کی پوڑی‘ پر غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع، کئی جگہ لگائے گئے بورڈ

گنگا سبھا کے چیف کا کہنا ہے کہ ملک میں جب انگریزوں کی حکومت تھی تو اسے ہندوؤں کے جذبات کا خیال تھا۔ اسی لیے انھوں نے 1916 میں ایسی میونسپل ایکٹ بنائی جس کے تحت گھاٹ پر غیر ہندوؤں کی انٹری منع تھی۔

<div class="paragraphs"><p>ہریدوار  / تصویر یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہریدوار واقع مشہور گنگا گھاٹ ’ہر کی پوڑی‘ میں اب غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہو گیا ہے۔ ’گنگا سبھا‘ کی طرف سے کئی مقامات پر بورڈ لگا دیے گئے ہیں، جن پر لکھا گیا ہے کہ یہاں غیر ہندوؤں کا آنا ممنوع ہے۔ بورڈ لگنے کے بعد سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور طرح طرح کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ’ہر کی پوڑی‘ کے ’برھم کنڈ‘ میں گنگا سبھا کے ذریعہ غیر ہندوؤں کے آنے پر پابندی کے بورڈ لگائے گئے ہیں، جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی ہیں۔

گنگا سبھا، ہر کی پوڑی کے سربراہ پنڈت نتن گوتم نے کہا کہ 1916 میں برطانوی حکومت کے وقت نگر پالیکا کے تحت میونسپل ایکٹ بنا تھا، جس میں ’ہر کی پوڑی‘ میں غیر ہندوؤں کے داخلہ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس قانون کے بارے میں لوگوں کو پوری طرح سے جانکاری نہیں تھی، اس لیے گنگا سبھا نے اس جانکاری کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ’ہر کی پوڑی‘ کے سبھی دروازوں پر بورڈ لگا دیے ہیں۔


پنڈت نتن گوتم کا کہنا ہے کہ انگریزوں کی حکومت کو ہم ہندوؤں کے جذبات کا پورا خیال تھا۔ اس لیے انھوں نے 1916 میں یہ ایکٹ بنایا تھا۔ اب بی جے پی کی ہماری حکومت ہے اور ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ایکٹ کی توسیع کرے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمبھ والے علاقہ میں بھی غیر ہندوؤں کے جانے پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

ہر کی پوڑی میں غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہونے کا بورڈ لگنے کے بعد سادھو سنتوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ گنگا گھاٹ پر پہنچے کچھ ہندو عقیدتمندوں نے بھی اس قدم کی حمایت کی ہے۔ عقیدتمندوں کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقہ میں دیگر مذاہب کے لوگوں کا آنا منع ہونا ہی چاہیے، کیونکہ گنگا ایک پاکیزہ ندی ہے۔ سادھو سنتوں کا اس تعلق سے کہنا ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ، مثلاً عیسائی اور مسلمان، گائے کا گوشت کھاتے ہیں، جو ہندو مذہب میں ممنوع ہے۔ اسی لیے مسلمانوں یا عیسائیوں کا ’ہر کی پوڑی‘ میں داخلہ ممنوع ہونا ہی چاہیے۔


اس معاملہ میں گڑھوال ڈویژن کے کمشنر ونئے شنکر پانڈے نے کہا ہے کہ انھیں ’ہر کی پوڑی‘ میں لگائے گئے بورڈ سے متعلق کوئی جانکاری نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بورڈ اور میونسپل ایکٹ میں کیا لکھا ہے، یا پھر گنگا سبھا کا کیا کہنا ہے، ان سب کی جانکاری لی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گنگا سبھا نے کیا مطالبہ کیا ہے، اور انتظامیہ اس سلسلے میں کیا فیصلہ لیتا ہے، دونوں کو ایک ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔