ضمنی انتخابات میں چوہان بانگر وارڈ آخر اتنا اہم کیوں ہے؟

ویسے تو روہنی، شالیمار باغ، ترلوک پوری، کلیان پوری اور چوہان بانگر وارڈوں کے لئے چناؤ ہونے ہیں لیکن ان وارڈوں میں سے چوہان بانگر ایسا وارڈ ہے جہاں اقلیتوں کی اکثریت ہے۔

user

سید خرم رضا

اگر کسی ریاست میں کارپوریشن کے چند وارڈس کے لئے ضمنی انتخابات ہونے ہوں تو اس پر نہ تو سیاست داں توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی عوام، لیکن دہلی میں محض آٹھ ماہ کے لئے پانچ میونسپل وارڈس کے لئے 28 فروری کو ہونے والے انتخابات میں حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے۔ ویسے تو بی جے پی اور کانگریس کے امیدوار اپنی سطح پر تشہیر کا کام کر رہے ہیں، لیکن عآ پ نے تو اپنا کوئی رہنما ایسا نہیں چھوڑا ہے جس کو میدان میں تشہیر کے لیے نہیں اتار ا ہو۔ وزیر اعلی اور پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال، نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، وزیر عمران حسین سے لے کر وارڈ کا ہر رکن دیوانگی کی حد تک لگا ہوا ہے۔

ویسے تو روہنی، شالیمار باغ، ترلوک پوری، کلیان پوری اور چوہان بانگر وارڈوں کے لئے چناؤ ہونے ہیں لیکن ان وارڈوں میں سے چوہان بانگر ایسا وارڈ ہے جہاں اقلیتوں کی اکثریت ہے۔ اقلیتوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یہاں بی جے پی سمیت تما م بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کا تعلق بھی اقلیتی طبقہ سے ہے۔


پانچ مرتبہ علاقہ کے رکن اسمبلی رہےچودھری متین کے صاحب زادے چودھری زبیر کانگریس کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ عام حالات میں ان کی امیدواری کی خود کانگریس میں مخالفت ہوتی اور کہا جاتا کہ یہ تو کنبہ پروری ہے، لیکن دہلی میں جو کانگریس کی حالت ہے اور اسمبلی انتخابات میں چودھری متین کے ہار جانے کے با وجود جو ان کی مقبولیت ہے اس لئے یہ مدا نہ تو کانگریس میں اور نہ عوام میں سننے میں آیا۔ ہاں عام آدمی پارٹی اس کو مدا ضرور بنا رہی ہے۔

بی جے پی نے اپنی پارٹی کے وفادار رکن ناظر انصاری کو امیدوار بنایا ہے۔ ناظر بی جے پی میں اس وقت سے ہیں جب بی جے پی حزب اختلاف کے کردار میں تھی۔ ناظر لوگوں سے گھر گھر جا کر مل ضرور رہے ہیں لیکن علاقہ میں بی جے پی کی پکڑ کمزور ہے اس لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کی کارکردگی کیسی رہتی ہے۔


ایک تو عام آدمی پارٹی دہلی میں حکمراں جماعت ہے اور آئندہ سال دہلی میں ایم سی ڈی کے لئے انتخابات ہونے ہیں، اس لئے ان کی کوشش ہے کہ اس مرتبہ تو ایم سی ڈی انتخابات میں ان کی کارکردگی بہتر ہو۔ دوسرا یہ کہ پارٹی کے امیدوار کو لے کر بھی عوام باتیں کر رہے ہیں۔ پارٹی نے اس کو امیدوار بنایا ہے جس کو انہوں نے گزشتہ سال ایم ایل اے کا ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے اپنے سابق رکن اسمبلی حاجی اشراق عرف بھورے کو اس وارڈ کے لئے امیدوار بنایا ہے۔ یعنی جس شخص کو اس لئے دوبارہ رکن اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا کیونکہ پارٹی ان کو اس کے لئے اہل نہیں سمجھتی تھی، اب وہی شخص کیسے چھوٹے عہدے کے لئے اہل ہو گیا۔

واضح رہے کہ جب حاجی اشراق ایم ایل اے تھے اس وقت موجودہ رکن اسمبلی عبدالرحمان کونسلر تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ رحمان اپنی اہلیہ اور سابق کونسلر اسماء رحمان کو کونسلر کا چناؤ لڑوانا چاہتے تھے لیکن پارٹی نے حاجی اشراق کو ٹکٹ دیا۔ علاقہ میں دو باتیں سنی جا رہی ہیں، ایک تو یہ کہ جو شخص ایم ایل اے رہ چکا ہو وہ اب کونسلر جیسے چھوٹے عہدے کے لئے کیوں لڑ رہا ہے، اور دوسرا یہ کہ موجودہ رکن اسمبلی رحمان چاہے سامنے سے ان کے ساتھ ہوں لیکن وہ دل سے کبھی نہیں چاہیں گے کہ حاجی اشراق کامیاب ہوں کیونکہ وہ خود بھی کونسلر سے ایم ایل اے بنے ہیں اور کل کو کہیں جیتنے کے بعد بھورے بھی ایم ایل اے کے لئےاپنا دعوی نہ ٹھوک دیں۔


ایک بڑا اہم مدا خود اروند کیجریوال کی اقلیتوں میں شبیہ کا ہے۔ دراصل اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد پارٹی کے رویہ میں اقلیتوں کے تئیں تبدیلی نظر آئی جس سے اقلیتوں میں ناراضگی پیدا ہو گئی۔ ناراضگی بڑھنے کی وجہ پہلے تو اروند کیجریوال کا خود کو بی جے پی سے بڑا ہندو رہنما ثابت کرنا، پھر شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں پر اسرار خاموشی اختیار کر نا اور پھر کورونا وبا کے دور میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایسا رویہ جیسے جماعت کے لوگ ہی کورونا پھیلا رہے ہوں۔ علاقہ میں رہنے والے محمد ارشاد تو اس بات سے اتنا غصہ ہیں کہ وہ کہتے ہیں ’’ ارے میں نے تو اپنے حلقہ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کسی کو بھی ووٹ دے دیں لیکن اس کو یعنی عام آدمی پارٹی کو ووٹ نہ دیں، ارے جس کا رویہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ایسا ہو اس کو کیا ووٹ دینا۔ کوڑے میں ووٹ ڈال دو لیکن ایسے شخص کو ووت نہیں دو۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ محمد ارشاد ان اشخاص میں شامل ہیں جنہوں نے اسمبلی انتخابات میں سبھی سے گزارش کی تھی کہ وہ عام آدمی پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالیں۔

ایسے ماحول میں چوہان بانگر وارڈ میں ووٹنگ کیجریوال کے لئے بڑا امتحان ہے، کیونکہ جیسے حالات ہیں اگر ووٹنگ بھی اسی مطابق ہوئی تو کیجریوال کی سیاست کے خاتمہ کی شروعات ہو سکتی ہے۔ گویا کہ یہ انتخابات چودھری متین اور کیجریوال دونوں کے لئے بہت اہم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔