’ہم منریگا کو بچانے کی لڑائی پوری مضبوطی سے لڑیں گے‘، کانگریس نے ایک بار پھر 4 مطالبات رکھے سامنے
کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے ذریعہ منریگا منصوبہ کو ختم کرنا غریبوں کے کام کے حقوق پر حملہ ہے، جسے پارٹی برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے خلاف پوری طاقت سے لڑائی لڑی جائے گی۔

کانگریس کا ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ ملک گیر سطح پر جاری ہے۔ آج بھی مختلف ریاستوں میں مزدوروں کے حقوق کو بچانے کے مقصد سے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اڈیشہ میں ریاستی صدر بھکت چرن داس کی قیادت میں کانگریس لیڈران و کارکنان نے عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی۔ اس کی کچھ تصویریں ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیں اور ساتھ ہی عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’ہم منریگا کو بچانے کی لڑائی پوری مضبوطی سے لڑیں گے۔‘‘
کانگریس نے اپنی اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مودی حکومت کے ذریعہ منریگا منصوبہ کو ختم کرنا غریبوں کے کام کے حقوق پر حملہ ہے، جسے کانگریس پارٹی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘ کانگریس نے ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں 4 اہم مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں، جو کہ ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے تحت پہلے بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔ وہ مطالبات اس طرح ہیں:
کام کی گارنٹی، مزدوری کی گارنٹی، جوابدہی کی گارنٹی
منریگا میں کی گئی تبدیلیوں کی فوراً واپسی
کام کے آئینی حق کی مکمل بحالی
کم از کم تنخواہ 400 روپے
اس درمیان بلند شہر کے انوپ شہر واقع گاؤں تولی کے کمیونٹی سنٹر امبیڈکر بھون میں ہفتہ کے روز ایک چوپال کا انعقاد کیا گیا۔ یہ چوپال ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کی ضلع کوآرڈنیٹر پرگیا گوڑ کی قیادت میں ہوئی، جس میں نیائے پنچایت تولی سے جڑے جاب کارڈ ہولڈرس مزدور شامل ہوئے۔ چوپال سے خطاب کرتے ہوئے پرگیا گوڑ نے مرکز کی مودی حکومت کو مزدور مخالف قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت منریگا گارنٹی منصوبہ میں تبدیلی کر 100 دن کے روزگار کی گارنٹی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ گوڑ کے مطابق قانون میں کی گئی تبدیلیوں سے مزدوروں کو روزگار سے محروم کیا جائے گا اور یہ غریبوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی جیسا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کسان، نوجوان اور تاجروں کے بعد مزدوروں کے پیٹ پر لات مارنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے مزدوروں سے متحد ہو کر کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی کی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔