’ہم اس سازش کے خلاف لڑیں گے اور جیتیں گے‘، منریگا مزدوروں کے نمائندہ وفد سے راہل گاندھی نے کی ملاقات

کانگریس نے کہا کہ منریگا صرف منصوبہ نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، جو ملک کے غریبوں و مزدوروں کو کام کا حق دیتا ہے۔ لیکن مودی حکومت اس حق کو روند کر نیا قانون لے آئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>منریگا مزدوروں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

منریگا کو بچانے کی مہم کانگریس کے ذریعہ زور و شور سے چلائی جا رہی ہے۔ مختلف ریاستوں میں کانگریس لیڈران و کارکنان کے زریعہ سڑکوں پر نکل کر مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس درمیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے منریگا مزدوروں کے ایک نمائندہ وفد سے آج ’جَن سنسد‘ میں ملاقات کی۔ یہ منریگا مزدور ہریانہ سے آئے تھے، جنھوں نے راہل گاندھی سے اپنی پریشانیوں کا ذکر کیا۔

کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر اس ملاقات کی کچھ تصویریں شیئر کی ہیں اور بتایا ہے کہ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ہریانہ سے آئے منریگا مزدوروں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔ کانگریس نے اس پوسٹ میں منریگا کے اصولوں میں تبدیلی کو مزدوروں کے لیے انتہائی مضر بھی ٹھہرایا۔ پارٹی نے لکھا کہ ’’منریگا صرف منصوبہ نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، جو ملک کے غریبوں و مزدوروں کو کام کا حق دیتا ہے۔ لیکن مودی حکومت اس حق کو روند کر نیا قانون لے آئی ہے۔‘‘


منریگا کو ختم کر اس کی جگہ ’جی رام جی‘ قانون لانے کے خلاف کانگریس ہی نہیں، کئی دیگر پارٹیاں بھی آواز اٹھا رہی ہیں، لیکن ملک گیر سطح پر مہم کانگریس نے چھیڑ رکھی ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ منریگا کو بچا کر مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔ اس عزم کا اظہار کانگریس نے اپنی تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی کیا ہے۔ کانگریس نے اس میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی کی منشا ہے کہ ملک میں ایسا سسٹم ہو، جہاں غریبوں و مزدوروں کی دولت ان کے دوستوں کو سونپ دی جائے، لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ ہم اس سازش کے خلاف لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘