مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے نظریہ کے خلاف جنگ جاری ہے: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ 'عدم تشدد' اور 'جھوٹ' کی اس سیاست کے خلاف، بھارت جوڑو یاترا کنیا کماری سے کشمیر تک عدم تشدد اور سوراج کا پیغام پھیلائے گی۔

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

میسور: ’بھارت جوڑو یاترا‘ پر نکلے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کے روز مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر بابائے قوم کے قتل کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ نظریات کی جنگ جاری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لوگوں سے اس میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جس طرح گاندھی جی نے برطانوی راج کے خلاف جنگ لڑی تھی، آج ہم اسی نظریے کے خلاف لڑائی کر رہے ہیں جس نے گاندھی جی کو قتل کیا تھا۔ اس نظریے نے گزشتہ 8 برسوں کے دوران عدم مساوات، تقسیم میں اضافہ کیا ہے اور ہماری مشکل سے حاصل کی گئی آزادی کو زک پہنچائی ہے۔

راہل گاندھی آج کرناٹک کے بدناوالو میں بھارت جوڑو یاترا شروع کرنے کے بعد اس کھادی گرام ادیوگ سینٹر پہنچے، جہاں مہاتما گاندھی نے 1927 میں دورہ کیا تھا۔ اتوار کے روز میڈیا کو جاری ایک بیان میں راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ہندوستان کے عظیم فرزند کو یاد کر رہے ہیں اور ان کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ ہماری یاد اس حقیقت سے اور بھی پُرجوش ہو گئی ہے کہ ہم بھارت جوڑو یاترا کے 25ویں روز میں داخل ہو گئے ہیں، جس میں ہم ان کے عدم تشدد، اتحاد، مساوات اور انصاف کے راستے پر چل رہے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا کہ 'عدم تشدد' اور 'جھوٹ' کی اس سیاست کے خلاف، بھارت جوڑو یاترا کنیا کماری سے کشمیر تک عدم تشدد اور سوراج کا پیغام پھیلائے گی۔ راہل نے کہا سوراج کے کئی معنی ہیں۔ یہ ہمارے کسانوں، نوجوانوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی خواہش اور خوف سے آزادی ہے۔ یہ ہماری ریاستوں کی آزادی ہے کہ وہ اپنی آئینی آزادی کا استعمال کریں اور اپنے گاؤں میں پنچایتی راج کی پیروی کریں۔

انہوں نے کہا، یہ خود پر بھی فتح ہے، چاہے وہ بھارت یاتری ہوں جو 3600 کلومیٹر پیدل سفر کر رہے ہیں یا وہ لاکھوں شہری ہوں جو مختصر وقت کے لیے اس سفر میں شامل ہو رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’یاترا خوف، نفرت اور تقسیم کی سیاست کے خلاف ہندوستانی عوام کی پرسکون اور مضبوط آواز ہے۔‘‘ اقتدار میں رہنے والوں کے لیے گاندھی کی وراثت پر قبضہ کرنا آسان ہو سکتا ہے لیکن ان کے نقش قدم پر چلنا زیادہ مشکل ہے۔


راہل گاندھی نے کہا کہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی یاترا میں شریک ہو چکی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ جس اقدار کے لیے گاندھی جی نے اپنی جان دی تھی وہ آج خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا، "میرے میسور سے کشمیر کے دورے کے دوران، میں ہندوستان بھر کے اپنے ہم وطنوں سے عدم تشدد اور خیر سگالی کے جذبے پر عمل کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔