ووٹر ادھیکار یاترا: راہل گاندھی کی ’ووٹ چوری‘ مخالف مہم کو ملی تقویت، اکھلیش یادو کی یاترا میں شرکت
ووٹر ادھیکار یاترا کے 14ویں دن سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اس میں شریک ہوئے، جس سے راہل گاندھی کی بی جے پی کی ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مہم میں مزید تیزی آئی

کانگریس کی طرف سے شروع کی گئی ووٹر ادھیکار یاترا‘ ہفتہ کے روز اپنے 14ویں دن چھپرا کے شیام چک موڑ سے شروع ہوئی۔ یہ یاترا مختلف اہم راستوں اور مقامات سے گزرتے ہوئے آرہ پہنچے گی، جہاں ویر کنور سنگھ اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان عوامی جلسے کا انعقاد طے ہے۔ دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے دو بجے تک اپوزیشن کے بڑے رہنما عوام سے خطاب کریں گے۔
آج کی یاترا کا سب سے نمایاں پہلو سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو کی شمولیت رہی۔ اکھلیش یادو نے کانگریس قیادت کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہوئے بی جے پی پر سخت حملہ بولا اور کہا کہ ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لیے ’ووٹ چوری‘ کے خلاف یہ جدوجہد ناگزیر ہے۔
یاترا شروع کرنے سے قبل راہل گاندھی اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اکھلیش یادو کا استقبال کیا۔ کانگریس نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا، ’’عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جاری ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ نے نئی بیداری پیدا کی ہے۔ آج اکھلیش یادو کی شمولیت سے یہ تحریک مزید مضبوط ہوئی ہے۔‘‘
چھپرا سے آرہ تک یہ یاترا راجندر کالج، داروغہ رائے چوک، راجندر اسٹیڈیم، تھانہ چوک، میونسپلٹی چوک، بازار کمیٹی موڑ، نوازی ٹولا چوک، بیکاری چوک، روزہ، جنگا چوک، آرہ روڈ، سکڈّا، چھپرا برج موڑ، آرہ زیرو مائل، برہٹہ اسمبلی، دھرہرہ چوک، سپنا سنیما موڑ، شیو گنج، آرہ صدر اسپتال، مٹھیا موڑ اور رمنا میدان چوک سے گزرتی ہوئی آگے بڑھے گی۔
کل، یعنی 13ویں دن، یاترا سیوان میں تھی جہاں کانگریس کے سابق صدر اور موجودہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی پر براہ راست الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں ’ووٹ چوری‘ کر کے جمہوریت پر حملہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بی جے پی کے لیڈر اب بے قابو ہو کر اچھل رہے ہیں، کیونکہ چوری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے۔ ہندوستان اب ووٹ چوروں کو پہچان چکا ہے۔ ہم بہار میں ووٹ چوری نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
راہل گاندھی نے آئین کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ دراصل بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر حملہ ہے اور اپوزیشن کسی قیمت پر اس کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق مہادیوپورہ کی مثال سے بی جے پی کی کارستانی عوام کے سامنے لائی جا چکی ہے اور جلد ہی ہریانہ، مہاراشٹر اور کرناٹک میں بھی ایسی مثالیں پیش کی جائیں گی۔
سیوان کے جلسے میں کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا بھی شریک ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ سے سب سے زیادہ نقصان دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور غریبوں کو ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو بچانے کے لیے سبھی اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔
’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو کانگریس ایک عوامی تحریک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ صرف انتخابی مہم نہیں بلکہ عوامی حقوق، جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ اکھلیش یادو کی شمولیت سے اپوزیشن اتحاد کو نئی توانائی ملی ہے اور بہار میں یاترا کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔