’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں اینی راجہ بھی ہوئیں شامل، وائناڈ پارلیمانی انتخاب میں راہل گاندھی سے ملی تھی شکست
اینی راجہ نے کہا کہ ووٹر کا حق سب سے اہم ہے۔ یہ ہمیں اپنی حکومت چننے کی طاقت دیتا ہے۔ ہم اس حق کو چھیننے سے متعلق کسی بھی کوشش کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

بہار میں کانگریس کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ جاری ہے۔ آج اس یاترا میں سی پی آئی لیڈر اینی راجہ بھی شامل ہوئیں، جنھوں نے گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں کیرالہ کے وائناڈ پارلیمانی حلقہ سے راہل گاندھی کو چیلنج پیش کیا تھا۔ انھیں راہل گاندھی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن آج عوام کے حقوق کی لڑائی میں راہل گاندھی کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں۔
سی پی آئی جنرل سکریٹری ڈی راجہ کی شریک حیات اینی راجہ جمعہ کی صبح ہی بتیا (مغربی چمپارن) سے ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کا حصہ بنیں۔ وہ راہل گاندھی اور مہاگٹھ بندھن کے کچھ دیگر لیڈروں کے ساتھ کھلی جیپ پر سوار ہو کر یاترا میں شامل ہوئیں۔ اینی راجہ نے اس موقع پر کہا کہ ’’ووٹ کا حق سب سے اہم ہے۔ یہ ہمیں اپنی حکومت چننے کی طاقت دیتا ہے۔ انتخاب ہمارے ملک میں حقیقی مساوات کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ہر ووٹ کی قدر یکساں ہوتی ہے، چاہے وہ امیر کا ہو یا غریب کا۔ ہم اس حق کو چھیننے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ میں اسی لیے اس یاترا کا حصہ بنی ہوں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ اینی راجہ گزشتہ سال لوک سبھا انتخاب میں کیرالہ کے وائناڈ پارلیمانی حلقہ سے راہل گاندھی کے خلاف کھڑی ہوئی تھیں۔ انتخاب میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد میں راہل گاندھی نے رائے بریلی سے نمائندگی کا فیصلہ کرتے ہوئے وائناڈ سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جب وائناڈ پارلیمانی حلقہ پر ضمنی انتخاب کرایا گیا تو کانگریس نے پرینکا گاندھی کو امیدوار بنایا تھا اور انھوں نے جیت حاصل کر لوک سبھا میں پہلی مرتبہ داخلہ حاصل کیا۔
واضح رہے کہ سی پی آئی قومی سطح پر انڈیا بلاک کا حصہ ہے، حالانکہ وہ کیرالہ میں برسراقتدار ایل ڈی ایف میں شامل ہے۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کا اہم حریف یو ڈی ایف ہے، جس کی قیادت کانگریس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا انتخاب میں ایل ڈی ایف کی طرف سے اینی راجہ نے راہل گاندھی کے خلاف انتخاب لڑا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔