’وی بی-جی رام جی‘ قانون ریاستوں پر کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالے گا: کانگریس

جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’منریگا نے آئین سے حاصل کام کے حق کی گارنٹی دی تھی، جبکہ وی بی-جی رام جی صرف مرکزیت اور ریاستوں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی گارنٹی دے گی۔‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

مرکزی حکومت کی جانب سے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ یکم جولائی سے نافذ کیے جانے والے ’وی بی-جی رام جی‘ (وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن-گرامین ایکٹ) کو لے کر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے نئے قانون کو لے کر مودی حکومت پر بڑا حملہ بولا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ نیا قانون دیہی مزدوروں کے حقوق کو کمزور کرے گا اور ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ ریاستوں نے بھی اس نئے قانون کو لے کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہمیشہ کی طرح انتقامی اور گھٹیا سیاست سے متاثر مودی حکومت نے دیہی ترقی سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی، ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کے بغیر ہی پارلیمنٹ سے ’منریگا‘ کو ختم کرنے کا بل زبردستی پاس کر دیا۔ اب یہ سامنے آ رہا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے شروع ہونے والی ’منریگا‘ کے بدلے لائے گئے ’وی بی-جی رام جی‘ منصوبے کو لے کر کئی ریاستوں نے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔‘‘


کانگریس راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق مدھیہ پردیش، بہار اور اتراکھنڈ جیسی بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں نے ریاستوں پر ڈالے جانے والے بھاری اضافی مالی بوجھ کی مخالفت کی ہے۔ 4 دیگر ریاستی حکومتوں نے کھیتی باڑی کے ’پیک سیزن‘ کے دوران اس منصوبے میں مجوزہ بلیک آؤٹ مدت کی مخالفت کی ہے۔ کم از کم 5 ریاستوں نے دیہی مزدوروں کی اجرت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’دیہی ترقی کے وزیر کی اپنی آبائی ریاست بھی مودی حکومت کے اس نئے اہم ترین منصوبے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’منریگا نے آئین سے حاصل کام کے حق کی گارنٹی دی تھی، جبکہ وی بی-جی رام جی صرف مرکزیت اور ریاستوں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی گارنٹی دے گی۔‘‘


کانگریس کا دعویٰ ہے کہ 4 ریاستی حکومتوں نے منصوبے میں کھیتی باڑی کے ’پیک سیزن‘ کے دوران مجوزہ ’بلیک آؤٹ مدت‘ کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے دیہی علاقوں میں کام اور اجرت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم 5 ریاستوں نے دیہی مزدوروں کی اجرت میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ نئے قانون سے دیہی مزدوروں کی سودے بازی کرنے کی صلاحیت کمزور ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ’وکست بھارت- گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن-گرامین ایکٹ‘ یکم جولائی سے پورے ملک میں نافذ ہوگا۔ یہ 2 دہائی پرانے ’منریگا‘ کی جگہ لے گا۔ نئے قانون کے تحت دیہی خاندانوں کے لیے 125 دنوں کے قانونی اجرت والے روزگار کا انتظام کیا گیا ہے۔ حالانکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ منریگا آئین سے حاصل ’کام کے حق‘ کی گارنٹی دیتا تھا، جبکہ نیا قانون صرف مرکزیت اور ریاستوں پر مالی دباؤ بڑھانے کا کام کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔