اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے مہیندر بھاٹی قتل کیس میں ڈی پی یادو کو بری کیا

چیف جسٹس آر ایس چوہان کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بنچ نے باہوبلی لیڈر کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے مشہور مہیندر بھاٹی قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے باہوبلی لیڈر دھرمیندر پال سنگھ یادوعرف ڈی پی یادوکو ثبوتوں کی کمی کے سبب بدھ کو بری کر دیا اور باقی ملزمان کے معاملے میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اترپردیش دادری کے ایم ایل اے مہندر سنگھ بھاٹی کو 13 ستمبر 1992 کو بے دردی سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ڈی پی یادو سمیت چار افراد پال سنگھ عرف پالا عرف لکڈ، کرن یادو، پرنیت بھاٹی اور نتیش سنگھ بھاٹی کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی عدالت نے 28 فروری 2015 کو اس قتل کا قصوروار ٹھہرایا تھا اور 10 مارچ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔


اس وقت سے تمام ملزمان جیل میں بند ہیں۔ سی بی آئی عدالت کے اس فیصلے کو پانچوں ملزمان نے 2015 میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے آج ڈی پی یادو کو ثبوت کی کمی کے سبب قتل کے الزام سے بری کر دیا۔

چیف جسٹس آر ایس چوہان کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بنچ نے باہوبلی لیڈر کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ باقی ملزمان کے معاملے میں فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈی پی یادو میڈیکل گراونڈ پر مختصر مدت کی ضمانت پر باہر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔