کروز ڈرگس معاملہ: پارٹی سے پہلے ہی رچ لی گئی تھی آرین خان کو پھنسانے کی سازش! واٹس ایپ چیٹ سے انکشاف

واٹس ایپ چیٹ میں کے پی گوساوی پربھاکر سیل سے کہہ رہا ہے کہ حاجی علی چلے جاؤ اور وہ کام پورا کرو جو میں نے تمہیں بتایا تھا اور پھر وہاں سے گھر واپس آ جانا۔

سمیر وانکھیڈے، آرین خان / آئی اے این ایس
سمیر وانکھیڈے، آرین خان / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان سے متعلق ڈرگس معاملہ میں ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں اور این سی بی کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔ اے ابی پی نیوز نے اس معاملہ میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی جاسوس کے پی گوساوی اور اس کے ساتھی این سی بی کے نام پر وصولی کا کھیل چلا رہے تھے۔ اے بی پی نیوز نے واٹس ایپ چیٹ کی بنیاد پر یہ انکشاف کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس معاملہ میں مہاراشٹر کے وزیر اور این سی پی لیڈر نواب ملک نے روز اول سے این سی بی کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ این سی بی نے ڈرگس معاملہ کی جانچ سمیر وانکھیڈے کے ہاتھ سے لے کر دوسری ٹیم کو سونپ دی ہے۔ نیز سمیر وانکھیڈے کے خلاف تفتیش کے بھی احکامات صادر کئے گئے ہیں۔


اے بی پی نیوز نے این سی بی کے دو اہم گواہوں کے درمیان واٹس ایپ پر ہونے والی چیٹ کو عام کیا ہے۔ یہ گواہ کے پی گوساوی اور پربھاکر سیل ہیں۔ کے پی گوساوی سب سے پہلے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کے ساتھ ایک سیلفی میں نظر آیا تھا۔ گوساوی خود کو پرائیویٹ ڈیٹیکٹیو قرار دیتا تھا، لیکن آج وہ جعل سازی اور دھوکہ دہی کے معاملہ میں خود ہی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ واٹس ایپ چیٹ میں جس پربھاکر سیل کا ذکر ہے وہ این سی بی کا دوسرا گواہ ہے اور کے پی گوساوی کا ڈرائیور بھی رہ چکا ہے۔

واٹس ایپ چیٹ میں کے پی گوساوی پربھاکر سیل سے کہہ رہا ہے کہ ’’حاجی علی چلے جاؤ اور وہ کام پورا کرو جو میں نے تمہیں بتایا تھا۔ وہاں سے گھر واپس آ جانا۔ باہر سے تالا بند کر دینا اور چابی کو کھڑی سے ہال میں پھینک دینا۔ جلدی جاؤ اور جلدی واپس آؤ۔‘‘


اے بی پی نیوز کے مطابق پربھاکر سیل اور کے پی گوساوی کی واٹس ایپ چیٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ کروز پارٹی میں این سی بی کی چھاپہ ماری کے بعد بڑا کھیل چل رہا تھا۔ پربھاکر کے بیان حلفی کے مطابق حاجی علی جان کر انڈیانا ہوٹل کے پاس کسی سے مل کر اس سے 50 لاکھ روپے کیش لانے کو کہا تھا۔

پربھاکر سیل نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کروز پارٹی میں این سی بی کے چھاپہ سے قبل ہی کے پی گوساوی کے پاس 10 لوگوں کی ایک فہرست موجود تھی جنہیں نشانہ بنانا تھا۔ پربھاکر سیل نے اپنے بیان حلفی میں بتایا ہے کہ اسے گواہ بنایا گیا تھا اور اسے بغیر بتائے ہی 10 کورے کاغذوں پر دستخط کرا لئے گئے۔ جس وقت یہ کارروائی ہو رہی تھی، اس وقت اس کے پاس آدھار کارڈ بھی نہیں تھا۔ چیٹ سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پربھاکر سیل نے اپنا آدھار کارڈ این سی بی ملازم سمیر سالیکر کو لے بھیجا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔