اتراکھنڈ کی حکومت روزگار مخالف اور شراب پسند ہے: پروفیسر گورو ولبھ

گورو ولبھ نے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے ملک کی ایسی پہلی حکومت بننے کا ریکارڈ حاصل کیا ہے، جو ریاست کے لوگوں کو شراب کی ہوم ڈیلیوری فراہم کراتی ہے۔

تصویر ٹوئٹر @GouravVallabh
تصویر ٹوئٹر @GouravVallabh
user

یو این آئی

دہرادون: کانگریس کے قومی ترجمان پروفیسرگورو ولبھ نے اتوار کو اتراکھنڈ کے دہرادون میں ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے ملک کی ایسی پہلی حکومت بننے کا ریکارڈ حاصل کیا ہے، جو لوگوں کو شراب کی ہوم ڈیلیوری کرواتی ہے۔

پارٹی کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گورو ولبھ نے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے ملک کی ایسی پہلی حکومت بننے کا ریکارڈ حاصل کیا ہے، جو ریاست کے لوگوں کو شراب کی ہوم ڈیلیوری فراہم کراتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ماتری شکتی اس کے خلاف سڑکوں پر نکلتی ہے تو انہیں زبردستی جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شراب سے محبت کرنے والی اس حکومت نے اپنے گزشتہ ساڑھے پانچ سال کے دوران شراب کی 120 سے زیادہ دکانیں کھولیں جو کہ بی جے پی کے 2017 کے وژن کے خلاف ہے۔


انہوں نے الزام لگایا کہ اس 'شراب سے محبت کرنے والی حکومت' نے بھاگیرتھی اور الکنندا ندی کے سنگم دیو پریاگ میں شراب کی فیکٹری قائم کرکے بڑا گناہ کا کام کیا ہے۔ ریاستی حکومت کو روزگار مخالف قرار دیتے ہوئے گورو ولبھ نے کہا کہ بی جے پی نے پورے ملک میں ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جسے کوئی بھی ریاستی حکومت توڑ نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں یہاں پبلک سروس کمیشن کا ایک بھی امتحان نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے پوری نوجوان نسل پی سی ایس آفیسر بننے سے محروم رہی۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ سی ایم آئی ای کے اعداد و شمار کے مطابق، جب مارچ 2017 میں کانگریس کی حکومت تھی، بے روزگاری کی شرح 0.3 فیصد تھی، جو مارچ 2020 میں بڑھ کر 19.9 فیصد ہوگئی اور دسمبر 2020 میں اتراکھنڈ میں سب سے زیادہ 22.3 فیصد بے روزگاری کی شرح تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔