کرکٹ کے نام پر فرقہ واریت کا ’کھیل‘... نواب علی اختر

پوری ہندوستانی ٹیم اس موقع پر اپنے تیز گیند باز محمد سمیع کے ساتھ کھڑی ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ سمیع کے ناقدین کو دھتکار بھی رہے ہیں۔

محمد سمیع اور وراٹ کوہلی، تصویر آئی اے این ایس
محمد سمیع اور وراٹ کوہلی، تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

گزشتہ اتوار کے روز ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے ٹی۔20 ورلڈ کپ کے ایک میچ میں پاکستان کی جیت پر مبینہ طور پر ’خوشی‘ منانے کے معاملے میں ایک ہفتہ بعد بھی ملک کے مختلف حصوں سے گرفتاریوں اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ راجستھان کے ادے پور میں ایک پرائیویٹ مینجمنٹ اسکول کی استاد کو گرفتار کیا گیا، یوپی کے پانچ اضلاع میں سات لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور کشمیر کے سری نگر میں دو میڈیکل کالجوں کے کچھ طلباء کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہو جانا چاہیے کہ کرکٹ یا کسی بھی کھیل کو کھیل کے جذبے سے، اس سے لطف اندوز ہونا اور اچھا کھیلنے والی کسی بھی ٹیم یا کھلاڑی کی حمایت کرنا، اسے خوش کرنا بذات خود جرم نہیں ہو سکتا۔

کوئی بھی معاشرہ اپنے لوگوں پر اس طرح کی پابندیاں نہیں لگا سکتا کہ وہ کھیل کے میدان میں اس یا اُس ٹیم کے حق میں نہ بولیں یا کسی کے اچھے شاٹ کی تعریف نہ کریں۔ لیکن پاکستان کے خاص پس منظر کو دیکھتے ہوئے ان معاملات کو عمومی معیار کی بنیاد پر یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ لوگوں کا کردار بے ساختہ رد عمل کے زمرے میں آتا ہے یا میچ کے بہانے ماحول کو خراب کرکے بدامنی پھیلانے کی وسیع سازش سے بھی اس کا کوئی تعلق ہے۔ اگر یہ بے ساختہ رد عمل ہے تو اس پر یو اے پی اے جیسی سخت دفعات کا استعمال کرنا یا اسے غداری قرار دینا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے پولیس اور نظام حکمرانی کے تئیں عام شہریوں کے عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا۔


اگر پہلی نظر میں یہ معاملے کسی بڑی سازش سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں تو پوری سنجید گی کے ساتھ تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے قانونی کارروائی پرعمل کیا جانا چاہئے لیکن اس سلسلے میں اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ایسے ہر معاملے میں پختہ شواہد کے ذریعے سازش کے ہر پہلو واضح طور پر بے نقاب ہو۔ ان شواہد کے بغیر کی جانے والی پولیس کارروائی آئین کے ذریعہ فراہم کئے گئے شہری حقوق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ اس تناظر میں سب سے حساس خطہ جموں و کشمیر کے بارے میں بات کریں تو وہاں انتظامیہ کے سامنے پاکستان سے بھیجے گئے دہشت گرد عناصر کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کا اعتماد جیتنے کا دوہرا چیلنج ہے۔ اس لیے ہر قدم اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اٹھانا ہوگا کہ ضرورت سے زیادہ جوش میں کی گئی کوئی کارروائی عام لوگوں کو انتظامیہ کے قریب لانے کے بجائے اس سے مزید دور نہ کردے۔

ملک کے باقی حصوں میں اس طرح کے چیلنج خواہ نہ ہوں لیکن اس سے ایک مہذب اور آزاد خیال معاشرے کی ہماری شبیہہ کے داغدار ہونے کا خطرہ ہے۔ ان تمام حالات کے درمیان خاص طور پر اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو انسانی اقدار کا پاس ولحاظ رکھنا چاہئے نہ کہ ہر معاملے کو دیش بھگتی سے جوڑ کر ایک مخصوص طبقے کے خلاف اپنی دشمنانہ ذہنیت کے اظہار کے طور پر انتہا پسندوں کو اقلیتوں کے خلاف کشت خون کا بازار گرم کرنے کے لئے قانون ہاتھ میں لینے کی کھلی چھوٹ دے دینا چاہئے۔ اگر یوگی آدتیہ ناتھ کرکٹ کو بھی دیش بھگتی سے جوڑ رہے ہیں تو انہیں سب سے پہلے ہندوستان کے مایہ ناز تیز گیند باز محمد سمیع کے خلاف زہر افشانی کرنے والے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دینا چاہئے۔ محمد سمیع نے تقریباً ہر میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ٹیم انڈیا کو فاتح بنانے میں اہم کردارادا کیا ہے۔


اس ہار کے لئے سب سے زیادہ محمد سمیع کو ٹرول کیا جا رہا ہے۔ یعنی پھر وہ ننگی فرقہ واریت منہ کھولے سامنے آگئی ہے جو فی الحال اس ملک کو چلانے کا دم بھرتی ہے۔ محمد سمیع اپنی مذہبی شناخت کے لیے پاکستان حامی بتائے جا رہے ہیں۔ ویسے یہ فرقہ وارانہ کھیل بھی بہت پرانا ہے لیکن باربار اس لئے لوٹ آتا ہے کہ ان سالوں میں آزاد خیالی کے اناپ شناپ پیسے سے اسپانسرڈ، ہندو وکاس کے پیروکاروں کے ذریعہ پروپیگنڈا سیاست اکثریت پسندی کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں تقریباً ہر مسئلے کو فرقہ وارانہ چشمے سے دیکھا جا رہا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ اس صورتحال کے باوجود کرکٹ کے کھلاڑی اپنے کھیل کا مذہب نہیں بھولے ہیں۔ پوری ہندوستانی ٹیم اس موقع پر اپنے تیز گیند باز محمد سمیع کے ساتھ کھڑی ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ سمیع کے ناقدین کو دھتکار بھی رہے ہیں۔

کپتان وراٹ کوہلی نے محمد سمیع کو نشانہ بنانے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ہیں جو اپنی شناخت چھپا کر اس طرح کی حرکت کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے وہ بغیر ریڑھ کے ہوتے ہیں، ان کے پاس کسی سے آمنے سامنے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔ کوہلی نے واضح لفظوں میں کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا سراسر غلط ہے۔ محمد سمیع ہندوستانی ٹیم کا اہم حصہ ہیں، انھوں نے ہندوستان کو کافی میچ جتائے ہیں پھر بھی ان کے کھیل میں کسی کو وہ بات نہیں نظر آتی جو نظر آنی چاہیے، تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔ نہ ہی ویسے لوگوں کے لیے میں اپنا وقت برباد کرنا چاہتا ہوں۔ کوہلی نے یہ بھی کہا کہ ہم محمد سمیع کے ساتھ 200 فیصد کھڑے رہیں گے اور باہری لوگوں کے برتاؤ کا ہمارے رشتوں پر اثر نہیں پڑ سکتا۔


اسی طرح ہند۔پاک میچ کو جنون میں بدلنے والوں کے لیے وراٹ کوہلی کی وہ تصویریں بھی حیران کر رہی ہیں جن میں وہ پاکستان کے کھلاڑیوں کے ساتھ بہت پیار سے گلے مل رہے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اس میچ میں نصف سنچری لگانے والے پاکستانی کھلاڑی رضوان سمیت کئی پاکستانی وراٹ کوہلی کے مداح ہیں اور رضوان تو ان کو اپنا آئیڈیل بتا کر پاکستان میں ہی ٹرول ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل جب نیرج چوپڑا نے جیولین تھرو میں اولمپک گولڈ جیتا تھا تب بھی کچھ لوگ پاکستانی کھلاڑی کو ٹرول کرنے کی کوشش میں تھے۔ نیرج چوپڑا نے انہیں سخت الفاظ میں پھٹکار لگائی تھی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اتوار کو پاکستان کے خلاف ہوئے ٹی۔20 میچ میں محمد سمیع کی طرح ٹیم انڈیا کے باقی کھلاڑی بھی حسب توقع کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تھے تو کیا پوری ٹیم کو ’پاکستان سپورٹر‘ قرار دے دیا جائے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ میدان کرکٹ کے ہمارے انہیں جانبازوں نے بیٹ اور گیند کے ذریعہ سینکڑوں بار ملک کا نام روشن کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ لیکن ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہر کرکٹ ٹیم اپنے ملک کے لیے کھیلتی ہے اور ہر کھلاڑی اپنی ٹیم کو جیت دلانے کے لئے کھیلتا ہے، اس لئے ہم اگر ہرمیچ جیت لینا چاہیں تو یہ ممکن بنانا آسان نہیں ہے اس لئے کہ مدمقابل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کسی بھی حال میں جیتنا ہے۔


کھیل میں ہارجیت لگی رہتی ہے۔ کبھی آپ شاندار طریقے سے فاتح ہوتے ہیں اور کبھی بری طرح ہار جاتے ہیں، لیکن اس ہار کی مایوسی قوم پرستوں کی پکار میں بدل گئی۔ 24 اکتوبر کو دراصل ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک میچ نہیں ہو رہا تھا ایک طرح سے وہ جنگ لڑی جا رہی تھی جو ہندوستان اور پاکستان کے سر پھرے لوگوں کے دل میں برسوں سے بسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹیم انڈیا یہ جنگ جیت جاتی تو مودی کی جیت ہوتی اور عمران کی ہار ہوتی لیکن ہندوستان کے کھلاڑیوں نے یہ سنہرا موقع ان سے چھین لیا۔ ابھی بہت سے مواقع ہیں جب ٹیم انڈیا کے کھلاڑی ہندوستانی مداحوں کو فخر کرنے اور سیاستدانوں کو مبارکباد دینے کے مواقع فراہم کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔