مغربی اتر پردیش میں بی جے پی کے لیے خطرہ بڑھا، گوجروں کو ناراض کر گئے یوگی!

نوئیڈا کے دادری اسمبلی حلقہ میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا 22 ستمبر کا دورہ الٹا پڑتا نظر آ رہا ہے، یوگی کے پہنچنے سے قبل ہی یہاں گوجر سماج اور راجپوت سماج میں تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے ین ایس
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے ین ایس
user

جاوید چھولسی

نوئیڈا کے دادری اسمبلی حلقہ میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دورہ بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ 22 ستمبر کو یوگی آدتیہ ناتھ دادری پہنچے، لیکن اس سے پہلے ہی یہاں کے گوجر سماج اور راجپوت سماج میں تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ ایک طرف جہاں گوجر سماج راجہ مہر بھوج کو گوجروں کا راجہ ماننے کی بات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف راجپوت سماج ان کے راجپوت ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تنازعہ اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ انتظامیہ کو اس میں مداخلت کرنی پڑی۔ علاقے میں کئی جگہ یوگی کے پوسٹر اور بینروں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی تک ملی جانکاری کے مطابق دادری پولیس نے اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی ہے اور دو لوگوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق دونوں ہی ایف آئی آر گوجر سماج کے لوگوں کے خلاف کیا گیا ہے۔ ایک ایف آئی آر میں جہاں گوجر اکثریتی گاؤں چٹھہرا کے شیام سنگھ بھاٹی کا نام ہے، تو وہیں دوسری ایف آئی آر میں ویپن ناگر، موہت ناگر، کرتار سنگھ اور لوکیش بھاٹی کو نامزد کیا گیا ہے۔ چٹھہرا کے ایک باشندہ نے بتایا کہ شیام سنگھ بھاٹی کو گرفتار کرنے بڑی تعداد میں پولیس پہنچی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعداد 100 سے بھی زیادہ ہوگی۔ جس وقت پولیس کی گاڑیاں پہنچیں، اس وقت گاؤں میں دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ شروع میں تو لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ آخر ماجرا کیا ہے!


دوسری طرف وپن ناگر اور موہت ناگر کی بھی گرفتاری کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس جہاں یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے خودسپردگی کی ہے۔ بہر حال، ان لوگوں کی گرفتاری سے گوجر سماج میں کافی غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ یوگی کے آنے سے پہلے ہی گوجر علاقوں میں کثیر تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ کوئی انہونی نہ ہو اس کے لیے چپے چپے پر سختی کر دی گئی۔

گوجر سماج میں غصے کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ یوگی کے آنے سے کچھ وقت پہلے ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ اس میں راجہ مہر بھوج کے اس مجسمہ کو دکھایا گیا جس کی رونمائی یوگی کرنے والے تھے۔ مجسمہ پر جو تختی لگائی گئی تھی، اس پر پہلے مہر بھوج کے آگے گوجر لکھا ہوا تھا۔ لیکن پھر گوجر لفظ کو ٹیپ سے ایک شخص نے چھپا دیا، اور اسی کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔ حالانکہ وائرل ویڈیو کی ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


مغربی اتر پردیش میں گوجر سماج کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یوگی گزشتہ کئی دنوں سے دورے پر ہیں۔ صبح پہلے وہ غازی آباد سے گریٹر نوئیڈا ہیلی کاپٹر سے پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے دادری اور ہاپوڑ میں بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ دراصل نوئیڈا، ہاپوڑ، غازی آباد، میرٹھ، سہارنپور، کیرانہ، بجنور، سنبھل سمیت کئی اضلاع کی تقریباً 25 اسمبلی سیٹوں پر گوجر طبقہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ 2017 کے اسمبلی الیکشن میں اسی علاقے سے بی جے پی کے 5 گوجر طبقہ کے لوگ کامیاب ہوئے تھے۔

بہر حال، یوگی جس مقصد سے دادری کا دورہ کرنا چاہ رہے تھے، اس میں انھیں کامیابی ملتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ یہاں کا گوجر سماج ان کے دورے سے کافی خفا ہے۔ حالانکہ بی جے پی رکن اسمبلی تیج پال ناگر نے کئی بار لوگوں کو منانے کے لیے مہر بھوج کو گوجر سمراٹ بتایا ہے، لیکن ان کی باتوں کا گوجر سماج پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔